وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ نے تیل کمپنیوں سے بھی بات چیت کی ہے تاکہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے طویل ہونے کی صورت میں اس کے اثرات کو کم کیا جا سکے، جس سے مارکیٹ میں طویل مدتی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سکیمر کے مطابق، ایران کے بحران کے جلد حل یا آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے امکانات تاحال کم ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب جنگ کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں، ایک ایسا تنازع جو ہزاروں جانوں کے ضیاع اور عالمی توانائی سپلائی میں شدید خلل کا سبب بن چکا ہے۔
جنگ کے خدشات، تیل کی قیمتیں آسمان پر
Overseas Post