امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے آج بدھ کے روز اپنی اہم پالیسی شرحِ سود کو بغیر کسی تبدیلی کے 3.50 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھا۔
یہ فیصلہ جیروم پاول کی مدتِ صدارت کے آخری باضابطہ اجلاس میں کیا گیا، جو مئی 2026 کے وسط میں ختم ہو رہی ہے۔
فیڈرل ریزرو کے مطابق حالیہ اشاریے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی معیشت مضبوط رفتار سے ترقی کر رہی ہے تاہم روزگار میں اضافے کی اوسط رفتار کم رہی جبکہ بے روزگاری کی شرح میں خاص تبدیلی نہیں آئی۔
مزید پڑھیں
فیصلہ سازی کے عمل میں شدید اختلاف سامنے آیا، جو 1990 کی دہائی کے بعد سب سے بڑا اختلاف ہے۔
شرحِ سود کو برقرار رکھنے کے حق میں ووٹنگ 8 کے مقابلے میں 4 رہی۔ اسٹیفن میران نے چوتھائی فیصد کمی کی حمایت کی جبکہ بیتھ ہاماک، نیل کاشکاری اور لوری لوگان نے پالیسی بیان میں نرمی کے اشارے شامل کرنے کی مخالفت کی۔
مرکزی بینک نے افراطِ زر کو بلند قرار دیا، جو پچھلے بیان میں کچھ حد تک بلند کہا گیا تھا اور اس اضافے کو عالمی توانائی کی قیمتوں سے جوڑا۔
اس کے ساتھ ہی فیڈ نے واضح کیا کہ وہ اپنی دوہری ذمہ داری، روزگار اور قیمتوں کے استحکام سے متعلق خطرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
بیان میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خاص طور پر جنگی کشیدگی، کو معاشی غیر یقینی میں اضافے کا سبب قرار دیا گیا، جس کے باعث مستقبل کی پیش گوئی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
فیڈرل ریزرو نے کہا کہ آئندہ شرحِ سود میں کسی بھی تبدیلی کے وقت اور حجم کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ آنے والے معاشی اعداد و شمار، معاشی منظرنامے اور خطرات کے توازن کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔
ادھر سرمایہ کار جیروم پاول کی آئندہ پریس کانفرنس کے منتظر ہیں تاکہ ایران جنگ کے امریکی معیشت پر اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
پاول آج امریکی وقت کے مطابق دوپہر میں روایتی پریس کانفرنس کریں گے اور امکان ہے کہ وہ اپنی مدت ختم ہونے کے بعد بھی بورڈ آف گورنرز کے رکن کے طور پر برقرار رہنے جیسے غیر معمولی قدم کا عندیہ دیں۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کیون وورش کی بطور نئے چیئرمین تقرری پر ووٹنگ کرنے والی ہے، جس کے مکمل طور پر جماعتی بنیادوں پر ہونے کی توقع ہے اور یہ عمل اگلے ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی جنوری میں وورش کو فیڈرل ریزرو کا نیا سربراہ نامزد کر چکے ہیں۔
گزشتہ برس وورش نے ٹرمپ کی شرحِ سود میں کمی کی حمایت کی تھی، جس پر کانگریس میں ڈیموکریٹس نے ان کی ممکنہ خودمختاری پر سوالات اٹھائے ہیں۔