ایران جنگ کے معاشی اثرات پر سرمایہ کاروں
کی نظر
توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو مسلسل تیسرے مہینے شرحِ سود کو 3.6 فیصد پر برقرار رکھے گا۔ پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ موجودہ شرحِ سود افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لیے کافی ہے کیونکہ یہ قرض لینے اور اخراجات کو سست کرتی ہے، مگر اتنی زیادہ نہیں کہ روزگار پر منفی اثر ڈالے۔
تاہم آج کی پریس کانفرنس میں سب سے اہم سوال پاول کے مستقبل سے متعلق ہوگا۔
پاول کی بطور گورنر مدت جنوری 2028 تک ہے، جو ان کی چیئرمین شپ سے الگ ہے۔
عام طور پر فیڈ چیئرمین اپنی مدت ختم ہونے پر تمام عہدے چھوڑ دیتے ہیں مگر پاول نے قیام جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ 1948 کے بعد پہلے چیئرمین ہوں گے جو مدت ختم ہونے کے بعد بھی بورڈ میں رہیں گے۔
اگر پاول، جنہوں نے فیڈ کی خودمختاری کو اپنے ورثے کا اہم حصہ بنایا، عہدے پر برقرار رہتے ہیں تو اس سے ٹرمپ کے لیے ایک اور نشست پر تقرری کا موقع محدود ہو جائے گا، کیونکہ 7 رکنی بورڈ میں پہلے ہی 3 اراکین ٹرمپ کے نامزد کردہ ہیں۔
دوسری جانب اس فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور ایک ایسا منظرنامہ پیدا ہو سکتا ہے جسے بعض ماہرین ’دو پوپ‘ کی صورتحال سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں موجودہ اور سابق دونوں چیئرمین بیک وقت بورڈ میں موجود ہوں۔
اس سے پالیسی سازوں کے درمیان اختلافات بھی بڑھ سکتے ہیں، اگر کچھ ارکان پاول کے مؤقف کو وورش پر ترجیح دیں۔
توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو کی نشست کے دوران گولڈ کے علاوہ شیئرز مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملے گا۔
خیال رہے کہ آج کے دن بعض بڑی امریکی کمپنیوں کے مالی نتائج کا بھی اعلان ہے۔