اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

فیڈرل ریزرو کا بڑا فیصلہ آج: مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ متوقع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فیڈرل ریزرو شرح سود
جیروم پاول کا ممکنہ آخری اجلاس بطور چیئرمین (فوٹو: العربیہ)

آج بدھ کے روز فیڈرل ریزرو اپنی بنیادی شرحِ سود کو بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھنے کا اعلان کرے گا جبکہ موجودہ چیئرمین جیروم پاول اس بات کا اشارہ دے سکتے ہیں کہ وہ اپنے جانشین کیون وورش کی متوقع توثیق کے بعد بھی بورڈ میں بطور رکن برقرار رہ سکتے ہیں۔

سرمایہ کار، پاول کے بیانات کے منتظر ہیں تاکہ ایران جنگ کے معاشی اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

مزید پڑھیں

پاول آج فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی ’ایف او ایم سی‘ کے ممکنہ طور پر اپنے آخری اجلاس کی صدارت کریں گے، جو مالیاتی پالیسی کی نگرانی کرتی ہے۔ 

اجلاس کے بعد روایتی پریس کانفرنس بھی ہوگی، جہاں وہ یہ غیر معمولی قدم اٹھانے کا عندیہ دے سکتے ہیں کہ 15 مئی کو بطور چیئرمین مدت ختم ہونے کے بعد بھی بورڈ آف گورنرز کے رکن رہیں گے۔

دوسری جانب سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی ’یونائیٹڈ اسٹیٹس سینیٹ‘ میں کیون وورش کی بطور نئے چیئرمین تقرری پر ووٹنگ متوقع ہے، جو ممکنہ طور پر مکمل طور پر جماعتی بنیادوں پر ہوگی اور یہ عمل اگلے مہینے تک جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں وورش کو فیڈرل ریزرو کا نیا سربراہ نامزد کیا تھا۔ گزشتہ سال وورش نے شرحِ سود میں کمی کے لیے ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کی تھی، جس کے باعث کانگریس میں ڈیموکریٹس نے ان کی خودمختاری پر سوالات اٹھائے۔

 

ایران جنگ کے معاشی اثرات پر سرمایہ کاروں
کی نظر

توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو مسلسل تیسرے مہینے شرحِ سود کو 3.6 فیصد پر برقرار رکھے گا۔ پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ موجودہ شرحِ سود افراطِ زر کو قابو میں رکھنے کے لیے کافی ہے کیونکہ یہ قرض لینے اور اخراجات کو سست کرتی ہے، مگر اتنی زیادہ نہیں کہ روزگار پر منفی اثر ڈالے۔
تاہم آج کی پریس کانفرنس میں سب سے اہم سوال پاول کے مستقبل سے متعلق ہوگا۔
پاول کی بطور گورنر مدت جنوری 2028 تک ہے، جو ان کی چیئرمین شپ سے الگ ہے۔
عام طور پر فیڈ چیئرمین اپنی مدت ختم ہونے پر تمام عہدے چھوڑ دیتے ہیں مگر پاول نے قیام جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ 1948 کے بعد پہلے چیئرمین ہوں گے جو مدت ختم ہونے کے بعد بھی بورڈ میں رہیں گے۔

اگر پاول، جنہوں نے فیڈ کی خودمختاری کو اپنے ورثے کا اہم حصہ بنایا، عہدے پر برقرار رہتے ہیں تو اس سے ٹرمپ کے لیے ایک اور نشست پر تقرری کا موقع محدود ہو جائے گا، کیونکہ 7 رکنی بورڈ میں پہلے ہی 3 اراکین ٹرمپ کے نامزد کردہ ہیں۔

امریکا ایران کشیدگی
کشیدگی بڑھتے ہی عالمی منڈیوں میں تیل مہنگا، اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار

دوسری جانب اس فیصلے سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور ایک ایسا منظرنامہ پیدا ہو سکتا ہے جسے بعض ماہرین ’دو پوپ‘ کی صورتحال سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں موجودہ اور سابق دونوں چیئرمین بیک وقت بورڈ میں موجود ہوں۔ 

اس سے پالیسی سازوں کے درمیان اختلافات بھی بڑھ سکتے ہیں، اگر کچھ ارکان پاول کے مؤقف کو وورش پر ترجیح دیں۔

توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو کی نشست کے دوران گولڈ کے علاوہ شیئرز مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملے گا۔

خیال رہے کہ آج کے دن بعض بڑی امریکی کمپنیوں کے مالی نتائج کا بھی اعلان ہے۔