عرب ماہرِ معاشیات إیہاب سعيد کے مطابق، عرب منڈیوں میں ماضی میں سرمایہ کاری فنڈز کا رجحان زیادہ عام نہیں تھا کیونکہ زیادہ تر سرمایہ کار خود براہِ راست حصص اور بانڈز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے تھے۔
تاہم حالیہ برسوں میں یہ رجحان تیزی سے بڑھا ہے، جس کی بڑی وجوہ میں وقت کی کمی اور پیشہ ور فنڈ مینیجرز پر اعتماد شامل ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مصر میں گزشتہ دو برسوں کے دوران سرمایہ کاری فنڈز کی صنعت میں غیر معمولی ترقی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں سرمایہ کار فکسڈ ریٹرن اسکیموں کے مقابلے میں زیادہ لچکدار متبادل کے طور پر فنڈز کا رخ کر رہے ہیں، خاص طور پر افراطِ زر اور شرح سود میں تبدیلیوں کے باعث۔
اسٹاک مارکیٹ کا تجربہ نہیں، سرمایہ کاری فنڈز بہترین متبادل ہوسکتے ہیں
Overseas Post