امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود کو 3.5 فیصد سے 3.75 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس اہم معاشی فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا مرکزی بینک بھی مہنگائی کے خلاف جنگ کو ابھی تک مکمل طور پر نہیں جیت سکا ہے۔
امریکی مرکزی بینک کے مطابق معاشی سرگرمیاں مضبوطی سے آگے بڑھ رہی ہیں، لیکن توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی اب بھی بلند ہے۔
سرمایہ کاری میں دلچسپی اور مالیاتی کشش
معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود کششِ ثقل کی طرح کام کرتی ہے، جو سرمایہ کاری کے بہاؤ کا تعین کرتی ہے۔
جب بینک ڈپازٹس یا بانڈز پر بہتر منافع ملتا ہے، تو سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ اور سونے جیسے غیر مستحکم اثاثوں میں رسک لینے سے گریز کرنے لگتے ہیں۔
ٹیکنالوجی اسٹاکس پر اثرات
ٹیکنالوجی کمپنیاں شرح سود کے حوالے سے انتہائی حساس ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی قدر کا انحصار مستقبل کی متوقع آمدنی پر ہوتا ہے۔
جب شرح سود بڑھتی ہے تو مستقبل کی ان کمائیوں کی موجودہ قیمت کم ہو جاتی ہے، جس سے ٹیکنالوجی کے حصص پر دباؤ بڑھتا ہے اور سرمایہ کاری مہنگی ہو جاتی ہے۔
ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر
زیادہ شرح سود کے باعث امریکی ڈالر عالمی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے، کیونکہ ڈالر میں موجود اثاثے بلند منافع دیتے ہیں۔
تاہم اس مضبوطی سے ان ترقی پذیر ممالک پر بوجھ بڑھتا ہے جو اپنی بنیادی اشیاء اور توانائی کی خریداری ڈالر میں کرتے ہیں۔
توانائی کی قیمتیں
عمومی طور پر ڈالر کی مضبوطی خام تیل کی قیمتوں پر منفی اثر ڈالتی ہے، کیونکہ تیل ڈالر میں خریدا جاتا ہے۔
تاہم موجودہ جغرافیائی تناؤ اور آبنائے ہرمز میں سپلائی کے خدشات ڈالر کی مضبوطی کے باوجود تیل کی قیمتوں کو اوپر رکھنے کا سبب بن رہے ہیں۔
سونے کی مارکیٹ پر دباؤ
سونا کوئی منافع یا ڈیویڈنڈ نہیں دیتا، اس لیے بلند شرح سود کے ماحول میں اسے رکھنا مہنگا پڑتا ہے۔
جب سرمایہ کاروں کو بانڈز سے محفوظ منافع مل رہا ہو تو وہ سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں سے نکل کر کیش یا بانڈز کی طرف منتقل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔
قرضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت
شرح سود میں استحکام کا مطلب یہ ہے کہ صارفین اور کاروباروں کے لیے قرض لینا مہنگا رہے گا۔ خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر اس سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کی وجہ سپلائی چین میں رکاوٹ ہے، تو محض شرح سود بڑھانا اس کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوگا۔
سرمایہ کاروں کے لیے حکمت عملی
ماہرین سرمایہ کاری کے لیے اثاثوں کے تنوع کو بہترین دفاع قرار دیتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی پورٹ فولیو میں اسٹاکس، بانڈز، سونا، رئیل اسٹیٹ اور نقد رقم کا مناسب تناسب رکھیں۔
اس طرح وہ منڈی کے ہنگامی اتار چڑھاؤ کے دوران اپنے اثاثوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو کا اقدام اس بات کی عکاسی ہے کہ عالمی معیشت اب بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔
شرح سود کا طویل عرصے تک بلند رہنا جہاں افراطِ زر کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے، وہیں یہ معاشی ترقی کی رفتار اور عالمی تجارتی منڈیوں پر مزید دباؤ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔