اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

گولڈ دباؤ میں: قیمتیں مستحکم مگر ہفتہ وار بڑی گراوٹ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سونے کی قیمت
سعودی عرب میں سونے کی قیمت مستحکم، 21 کیرٹ 482.82 ریال

سعودی عرب میں آج جمعہ کو سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا، جہاں 21 کیرٹ فی گرام، جو سعودی عرب میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، تقریباً 482.82 ریال (128.75 ڈالر) پر برقرار رہا۔

اسی طرح 24 کیرٹ فی گرام کی قیمت تقریباً 551.80 ریال، 22 کیرٹ 505.82 ریال، 18 کیرٹ 413.85 ریال اور 14 کیرٹ 321.88 ریال ریکارڈ کی گئی، جیسا کہ سعودی جولد ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے۔

ChatGPT Image 1 مايو 2026، 01 20 16 م

مزید پڑھیں

عالمی سطح پر جمعہ کے روز سونے کی قیمتیں بڑی حد تک مستحکم رہیں تاہم ہفتہ وار بنیاد پر کمی کا رجحان برقرار ہے۔ 

تیل کی قیمتوں میں اضافے نے افراطِ زر کے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث یہ توقع مضبوط ہو رہی ہے کہ شرح سود طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔

اسپاٹ مارکیٹ میں سونے کی قیمت 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 4614.98 

ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ’صبح 04:36 گرینچ ٹائم‘ تاہم یہ ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً 2 فیصد کمی کی جانب گامزن ہے، خاص طور پر بدھ کے روز ایک ماہ کی کم ترین سطح تک گرنے کے بعد۔

امریکی فیوچر معاہدے ’جون ڈیلیوری‘ بھی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 4626.40 ڈالر فی اونس پر آگئے، جیسا کہ رويترز نے رپورٹ کیا ہے۔

turkish golden jewelry store in istanbul 2026 01 11 10 04 36 utc
عالمی سطح پر سونا ہفتہ وار تقریباً 2٪ کمی کی جانب گامزن

تجارتی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ چین اور بھارت جو دنیا میں سونے کے سب سے بڑے صارفین ہیںJ میں سرکاری تعطیلات کے باعث مالیاتی منڈیاں بند رہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، افراطِ زر کے خدشات میں شدت

مارکیٹ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایشیائی سیشن میں تعطیلات کے باعث ٹریڈنگ کا حجم کم رہے گا، اس لیے مارکیٹ اس وقت ایک اہم موڑ پر ہے اور کسی نئے محرک کا انتظار کر رہی ہے جو سمت واضح کرے گا۔
دوسری جانب جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھی بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، خاص طور پر ایران کے اس بیان کے بعد کہ اگر امریکہ نے حملے دوبارہ شروع کیے تو وہ زیادہ تکلیف دہ اور طویل حملوں سے جواب دے گا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے مؤقف کو بھی دہرایا، جس سے امریکہ کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحاد بنانے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو سکتی ہیں۔