ملزم مختلف شہروں میں منظم انداز میں
بھیک مانگتا رہا
بلدیاتی پولیس کے سربراہ مجاہد اوندارسيف نے بتایا کہ ضبط شدہ رقم ممکنہ طور پر چند ہی دنوں میں جمع کی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بعض بھکاری اب زیادہ منظم طریقے اختیار کر رہے ہیں، جیسے کہ رقم کو فوری طور پر اے ٹی ایم مشینوں میں جمع کرانا تاکہ اپنے پاس بڑی رقم رکھنے سے بچ سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار شخص نے اعتراف کیا کہ وہ روزانہ 2 ہزار سے 3 ہزار ترک لیرہ خرچ کرتا ہے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھیک مانگنے پر انحصار کرتا ہے۔
ترک حکام کے مطابق یہ معاملہ صرف لوگوں کے جذبات سے کھیلنے یا دھوکہ دینے تک محدود نہیں بلکہ اس سے عوامی نظم و ضبط اور صحتِ عامہ سے متعلق خدشات بھی جڑے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ مذکورہ شخص کی ٹانگ پر کھلا زخم تھا اور وہ اسی حالت میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہا تھا، جس سے صحت کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے تھے۔
کارروائی کے اختتام پر حکام نے اس بھکاری پر جرمانہ عائد کیا، اس کے پاس موجود رقم ضبط کر لی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ بھیک مانگنے کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، خصوصاً ایسے کیسز میں جہاں اسے ایک منظم اور منافع بخش سرگرمی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہو۔