یہ سلسلہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بھی جاری رہا، جب مجموعی صلاحیت 467 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو سال کے آغاز سے 6 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کا شعبہ اب ڈیجیٹل معیشت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کا ایک بنیادی ستون بن چکا ہے۔
آج مملکت میں 60 سے زائد ڈیٹا سینٹرز مختلف علاقوں میں قائم ہیں، جو نہ صرف مارکیٹ کے پھیلاؤ بلکہ اس کی آپریشنل صلاحیت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
سعودی عرب کا جغرافیائی محلِ وقوع—جو ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑتا ہے—ڈیولپرز کو اسٹریٹجک فائدہ فراہم کرتا ہے، جس سے وہ ایک مرکزی مقام سے وسیع منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ کامیابی اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی جب سعودی عرب نے 2025 میں عالمی ڈیجیٹل تیاری کے اشاریے میں 94 پوائنٹس حاصل کر کے ’انتہائی بلند‘ درجے میں دنیا میں سرفہرست مقام حاصل کیا اور فن لینڈ، جرمنی، برطانیہ، ناروے اور فرانس جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا۔
مزید برآں، مملکت میں ڈیجیٹل نظام نہایت مضبوط ہے، جہاں انٹرنیٹ کی رسائی 99 فیصد تک پہنچ چکی ہے، فائبر آپٹک نیٹ ورک 5.8 ملین گھروں تک پھیل چکا ہے، جبکہ 2025 میں ٹیکنالوجی مارکیٹ کا حجم 199 ارب ریال سے تجاوز کر گیا۔
اسی طرح انٹرنیٹ ٹریفک بھی 2.462 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ تک پہنچ گئی، جو ڈیٹا سینٹرز کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔