اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ڈیٹا سینٹرز کی عالمی دوڑ میں سعودی عرب دوسرے نمبر پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب ڈیٹا سینٹرز
سعودی عرب نے ڈیٹا سینٹرز کے لیے دنیا کی دوسری سب سے پُرکشش منڈی کا اعزاز حاصل کر لیا

سعودی عرب نے ڈیٹا سینٹرز کے لیے سب سے زیادہ پُرکشش عالمی منڈیوں میں امرکہ کے بعد دوسرا مقام حاصل کر لیا ہے۔ 

یہ اہم کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں تیزی سے اپنی جگہ مستحکم کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ شعبہ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں

بلومبرغ کے تجزیے کے مطابق توانائی کی دستیابی اور اراضی کی سہولت ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں کے لیے مارکیٹ کی کشش کا تقریباً 58 فیصد حصہ بنتی ہیں۔ 

اس وقت 22.8 گیگاواٹ کی نئی صلاحیت زیرِ تعمیر ہے، جو آئندہ 3 برسوں میں فعال ہو جائے گی، جس سے ان مارکیٹس کی اہمیت بڑھ رہی ہے جو اس تیز رفتار ترقی کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

سعودی عرب میں ڈیٹا سینٹرز کے شعبے میں نمایاں ترقی دیکھی گئی ہے، جہاں 2021 میں 68 میگاواٹ کی صلاحیت بڑھ کر 2025 میں 440 میگاواٹ تک پہنچ گئی، یعنی صرف 4 سال میں 6 گنا اضافہ ہوا۔ 

computer network server room or data center 2026 03 24 23 15 31 utc
2021 سے 2025 تک صلاحیت میں 6 گنا اضافہ (68 سے 440 میگاواٹ)

یہ اضافہ ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تیز رفتار ترقی اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔

2026 کی پہلی
سہ ماہی میں
صلاحیت 467
میگاواٹ تک
پہنچ گئی

یہ سلسلہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بھی جاری رہا، جب مجموعی صلاحیت 467 میگاواٹ تک پہنچ گئی، جو سال کے آغاز سے 6 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کا شعبہ اب ڈیجیٹل معیشت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کا ایک بنیادی ستون بن چکا ہے۔
آج مملکت میں 60 سے زائد ڈیٹا سینٹرز مختلف علاقوں میں قائم ہیں، جو نہ صرف مارکیٹ کے پھیلاؤ بلکہ اس کی آپریشنل صلاحیت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔
سعودی عرب کا جغرافیائی محلِ وقوع—جو ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑتا ہے—ڈیولپرز کو اسٹریٹجک فائدہ فراہم کرتا ہے، جس سے وہ ایک مرکزی مقام سے وسیع منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارتِ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کے تمکین دفتر کے سربراہ، بسام البسام نے کہا کہ یہ کامیابی سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی حیثیت کا ثبوت ہے۔ 

computer technician and businessman talking in ser 2026 01 11 09 59 11 utc
مملکت میں 60 سے زائد ڈیٹا سینٹرز فعال

ان کے مطابق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، توانائی کی دستیابی، تیز رفتار ترقی اور آپریشنل تیاری نے مملکت کو اس شعبے میں عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھاتی ہے اور سعودی عرب کو ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کا عالمی مرکز بنانے میں مدد دیتی ہے۔

توانائی اور
اراضی کی دستیابی
مارکیٹ کی کشش
کا 58 فیصد حصہ

یہ کامیابی اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی جب سعودی عرب نے 2025 میں عالمی ڈیجیٹل تیاری کے اشاریے میں 94 پوائنٹس حاصل کر کے ’انتہائی بلند‘ درجے میں دنیا میں سرفہرست مقام حاصل کیا اور فن لینڈ، جرمنی، برطانیہ، ناروے اور فرانس جیسے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا۔
مزید برآں، مملکت میں ڈیجیٹل نظام نہایت مضبوط ہے، جہاں انٹرنیٹ کی رسائی 99 فیصد تک پہنچ چکی ہے، فائبر آپٹک نیٹ ورک 5.8 ملین گھروں تک پھیل چکا ہے، جبکہ 2025 میں ٹیکنالوجی مارکیٹ کا حجم 199 ارب ریال سے تجاوز کر گیا۔
اسی طرح انٹرنیٹ ٹریفک بھی 2.462 ٹیرا بٹ فی سیکنڈ تک پہنچ گئی، جو ڈیٹا سینٹرز کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔

یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سعودی عرب نہ صرف ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کا جواب دے رہا ہے بلکہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ بھی تیزی سے تیار کر رہا ہے۔ 

توانائی اور اراضی پر بڑھتے عالمی دباؤ کے پیشِ نظر، سعودی عرب ایک ایسی ابھرتی ہوئی عالمی منزل کے طور پر سامنے آ رہا ہے جو وسعت، لچک اور تیز رفتار ترقی کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔