اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

حساوی بلبل کی نغمگی: کسان اور فطرت کے درمیان دلکش ہم آہنگی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
الاحساء میں بلبل
الاحساء کے نخلستان میں بلبل کی آواز سکون اور خوشی کا باعث (فوٹو: واس)

سعودی عرب کے شہر الاحساء کی گھنی سبز و شاداب فضا میں، درختوں اور پودوں کے جھنڈ کے درمیان کسان بلبل کی آوازوں کی نقل کرتے ہیں، جہاں اس کی دلکش چہچہاہٹ صبح کے وقت سکون اور خوشی کا احساس بکھیر دیتی ہے، جو چہروں پر نمایاں مسکراہٹ لاتی اور ایک طویل محنت بھرے دن کی تھکن کو کم کر دیتی ہے، گویا یہ کسان اور پرندے کے درمیان ایک خوبصورت ہم آہنگ کہانی ہو۔

اس نخلستان کے باغات، پانی کے ذخائر اور سرسبز کھیتوں کے درمیان بلبل پرندہ—جسے مقامی طور پر ’بلبول‘ کہا جاتا ہے—آزادانہ پرواز کرتا ہے اور اپنی ہلکی پھرتی، دلکش شکل اور سریلی آواز کے ذریعے پورے علاقے میں خوشی اور تازگی پھیلا دیتا ہے۔ 

مزید پڑھیں

یہ چھوٹا سا سفید گالوں والا پرندہ، جسے ’سفید کان والا بلبل‘ بھی کہا جاتا ہے، سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں کثرت سے پایا جانے والا مقیم اور افزائش کرنے والا عام پرندہ ہے۔

حساوی بلبل دیگر اقسام کی طرح ہونے کے باوجود الاحساء کی ثقافت اور ماحول کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ 

اس کی ذہانت، چالاکی، وفاداری اور خوش اخلاقی اسے منفرد بناتی ہے

، جبکہ اسے نرمی، مانوسیت اور خوش گفتاری کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ 

عام طور پر نر اور مادہ مل کر کھجور کے درختوں اور دیگر درختوں پر گھونسلے بناتے ہیں، جن میں کھجور کے ریشے، ٹہنیاں اور دیگر قدرتی مواد استعمال کیے جاتے ہیں اور انہیں کپ نما شکل دے کر پتوں اور گھاس سے نرم بنایا جاتا ہے۔

5646546
کسان بلبل کی چہچہاہٹ کی نقل کر کے فطرت سے جڑتے ہیں (فوٹو: علی المادح)

بلبل زیادہ تر درختوں سے بھرپور ماحول جیسے جنگلات اور کھجور کے باغات میں رہتا ہے، خاص طور پر الاحساء کے کھجور کے باغات اور سرسبز وادیوں میں اسے کثرت دیکھا جاتا ہے۔ 

’بلبل احسائی‘
مقامی ثقافت
اور ماحول کا
اہم حصہ
بن چکا ہے

کنگ فيصل نیورسٹی کے مرکز برائے پرندہ تحقیق اور آبی وسائل کے ڈائریکٹر عودة ناصر الدخيل الله کے مطابق حیاتیاتی تنوع اور صاف ستھرا ماحول وہ بنیادی عوامل ہیں جن کی وجہ سے بلبل جیسے پرندے ہزاروں سال سے الاحساء میں بسیرا کیے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہاں کے گھریلو ماحول اور باغات نے پرندوں کو انسانوں کے قریب کر دیا ہے، جبکہ اہلِ الاحساء نے ان سے خاص لگاؤ پیدا کیا ہے اور ان کے رویّوں سے گہری واقفیت حاصل کر لی ہے، جس کے باعث وہ ان کا احترام کرتے اور انہیں پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’بلبلِ احسائی‘ میں کئی جینیاتی اور نسلی خصوصیات پائی جاتی ہیں اور یہ دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں الاحساء میں قدیم زمانے سے موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک میں پرندوں کے شوقین افراد خاص طور پر احسائی نسل کے بلبل کو پالنے میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ اس کی خوبصورت شکل، دلکش رنگ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی سریلی آواز اسے ممتاز بناتی ہے۔

64564654
نر و مادہ مل کر کھجور کے درختوں پر گھونسلے تیار کرتے ہیں (فوٹو: ایکس)

آخر میں انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے اس پرندے کے شکار اور فروخت کو روکا جا سکے تاکہ یہ قدرتی ماحول میں آزادانہ اور محفوظ زندگی گزار سکے۔