المسند نے کہا ہے کہ میں نے یہ بھی واضح کیا کہ دن کے اوقات میں اس اضافے کے عملی اثرات بھی ہوتے ہیں، جن میں:
درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ، توانائی کی کھپت ’خاص طور پر بجلی‘ میں اضافہ، روزمرہ معمولات، اوقاتِ نماز اور زراعتی سرگرمیوں پر اثر۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک تفصیلی نقشہ بھی شیئر کیا، جس میں مملکت کے مختلف علاقوں میں دن کے دورانیے میں اضافے کی مقدار کو واضح انداز میں دکھایا گیا ہے، تاکہ عوام اس موسمی تبدیلی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
مئی میں دن لمبے ہوں گے: شمالی علاقوں میں 35 منٹ تک اضافہ
Overseas Post