جرمنی کے جزیرے پول کے قریب بحیرہ بالٹک کی کم گہرائی والے پانیوں میں پھنسی ہمپ بیک وہیل کو کامیاب ریسکیو آپریشن کے بعد بحیرہ شمال میں آزاد کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
نجی ریسکیو ٹیم اور جرمن خبر رساں ادارے نے اس بڑی کامیابی کی تصدیق کی ہے۔
ریسکیو ٹیم کے رکن ینس شفارک کے مطابق یہ وہیل مچھلی ہفتے کی صبح تقریباً 9 بجے بحری جہاز سے آزاد ہو کر پانی میں چلی گئی۔
اس وقت ریسکیو قافلہ ڈنمارک کے علاقے سکاجن سے تقریباً 70 کلومیٹر دور آبنائے سکاجیرک میں موجود تھا۔
نیوز 5 کی جانب سے جاری ڈرون فوٹیج میں ایک وہیل مچھلی کو سمندر میں تیرتے ہوئے دیکھا گیا ہے، تاہم ماہرین ابھی تک حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکے کہ آیا یہ وہی ہمپ بیک وہیل ہے جسے حال ہی میں رہا کیا گیا ہے۔
ینس شفارک نے بتایا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہیل خود تیر کر جہاز سے باہر نکلی ہے یا اسے نکالا گیا ہے۔
اس کے علاوہ وہیل پر نصب کیے جانے والے جی پی ایس ٹریکر کی کارکردگی کے بارے میں بھی تاحال کوئی حتمی معلومات موصول نہیں ہوئیں۔
4 سے 6 سال کی عمر کا یہ نر ہمپ بیک وہیل پہلی بار مارچ کے آغاز میں بحیرہ بالٹک میں دیکھا گیا تھا۔
اس نے منتقلی سے قبل تقریباً 60 دن یہاں گزارے، جن میں سے زیادہ تر وقت وہ ساحل کے قریب کم گہرے پانیوں میں موجود رہا۔
گزشتہ منگل کو اس وہیل مچھلی کو جزیرہ پول کے قریب ایک بڑے بحری جہاز میں منتقل کیا گیا تھا۔
اس آپریشن کے بعد ایک طاقتور ٹگ بوٹ کے ذریعے اس جہاز کو بحیرہ شمال کی جانب لے جایا گیا تاکہ وہیل کو اس کے قدرتی ماحول میں چھوڑا جا سکے۔
ماہر حیاتیات فابین ریٹر نے وہیل کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ابھی مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
طویل عرصہ کم گہرے پانی میں رہنے کے باعث اس کی تیراکی اور غوطہ لگانے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وہیل کے منہ میں مچھلی پکڑنے والے جال کے ٹکڑے بھی پائے گئے ہیں، جس سے اس کی خوراک حاصل کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فابین ریٹر کا کہنا ہے کہ وہیل کی جسمانی حالت فی الحال تسلی بخش نظر نہیں آ رہی ہے۔