اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

چینی عدالت کاتاریخی فیصلہ: مصنوعی ذہانت کی بنیادپر برطرفی غیرقانونی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
چین کی عدالت میں اے آئی اور ملازمت سے برطرفی کا قانون پر جاری بحث اور ہانگژو کورٹ کا علامتی منظر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

چین کی مقامی عدالت نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کمپنیاں اپنے ملازمین کو محض مصنوعی ذہانت کے نظام سے تبدیل کرنے کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کرنے کا قانونی حق نہیں رکھتیں۔

مزید پڑھیں

یہ اہم فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب چینی حکام مقامی لیبر مارکیٹ کے استحکام اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی عالمی دوڑ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

انٹرمیڈیٹ پیپلزکورٹ ہانگژو کے مطابق مشرقی چین کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے ملازم کو اس وقت غیر قانونی طور پر فارغ کیا، جب اس نے اے آئی کی وجہ سے تنزلی قبول کرنے سے انکار کیا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ تنازع ایک اے آئی کمپنی اور اس کے ملازم ’ژو‘ کے درمیان پیدا ہوا، جو 2022 میں کوالٹی ایشورنس سپروائزر کے طور پر 25 ہزار یوآن ماہانہ تنخواہ پر بھرتی ہوا تھا۔

ژو کی ذمہ داریوں میں لارج لینگویج ماڈلز کے ساتھ کام کرنا، ان کے نتائج کا جائزہ لینا، سوالات کی مطابقت چیک کرنا اور اے آئی کے تیار کردہ مشکوک یا غلط مواد کی درجہ بندی کرنا شامل تھا۔

چین کی عدالت میں اے آئی اور ملازمت سے برطرفی کا قانون پر جاری بحث اور ہانگژو کورٹ کا علامتی منظر
(فوٹو: انٹرنیٹ)

وقت گزرنے کے ساتھ کمپنی نے ژو کے کام کا بڑا حصہ مصنوعی ذہانت کے سپرد کر دیا اور اسے 15 ہزار یوآن کی کم تنخواہ پر نچلے درجے کے عہدے پر کام کرنے کی پیشکش کی گئی۔

ژو کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کرنے پر کمپنی نے تنظیم نو اور افرادی قوت میں کمی کا بہانہ بنا کر اسے معاوضے کی ادائیگی کے ساتھ ملازمت سے فارغ کر دیا، جسے ژو نے عدالت میں چیلنج کردیا۔

ثالثی فورم نے ژو کے حق میں فیصلہ دیا تو کمپنی نے اسے ہانگژو کی عدالت میں چیلنج کیا، تاہم عدالت نے ابتدائی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کمپنی کی برطرفی کی منطق کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ انسانی کردار کو مصنوعی ذہانت سے بدلنا برطرفی کا جائز قانونی سبب نہیں ہو سکتا، جبکہ کم تنخواہ پر نچلے عہدے کی پیشکش کو بھی منصفانہ دوبارہ تعیناتی تصور نہیں کیا جا سکتا۔