امریکہ میں کارپوریٹ سربراہان اور عام ملازمین کی آمدن کے درمیان فرق میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں
آکسفیم اور انٹرنیشنل ٹریڈ یونین کنفیڈریشن کی نئی رپورٹ کے مطابق جہاں مزدوروں کی اجرتیں جمود کا شکار ہیں، وہیں سی ای اوز کے منافع اور مراعات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
تازہ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران امریکی سی ای اوز کی تنخواہوں میں مزدوروں کے مقابلے میں 20 گنا زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ اعداد و شمار ایس اینڈ پی کیپٹل آئی کیو، فیڈرل ریزرو اور بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے ڈیٹا کے تجزیے سے حاصل کیے گئے ہیں۔
2024 سے 2025 کے دوران نجی شعبے کے ملازمین کی فی گھنٹہ اجرت میں مہنگائی کے تناسب سے صرف 1.3 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے برعکس ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کی 384 کمپنیوں کے سربراہان کی آمدن میں اسی عرصے کے دوران 25.6 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا۔
اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق سی ای اوز اوسطاً ایک عام ورکر سے 281 گنا زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔
2024 میں ان سربراہان کی اوسط آمدن 2 کروڑ 29 لاکھ 80 ہزار ڈالر رہی، جو ساڑھے 3 دہائی قبل مزدور کی اجرت سے صرف 60 گنا زیادہ تھی۔
آکسفیم امریکہ کی عہدیدار پیٹریشیا اسٹوٹلمائر نے سی این بی سی کو بتایا کہ ملک میں قوت خرید کا بحران دراصل آمدن کی اسی شدید غیر مساوی تقسیم کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی نظام صرف چند امیروں کے فائدے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق سالانہ مہنگائی فروری میں 2.4 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 3.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ 4 سالوں کے دوران صارفین کے لیے اشیاء کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 16 فیصد تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے۔
جے ڈی پاور کے سروے میں 65 فیصد صارفین نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ ان کی آمدن میں اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔
اپریل کے ایک اور سروے کے مطابق 56 فیصد امریکیوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے جبکہ 59 فیصد صرف ماہانہ تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں۔
بڑھتی مہنگائی کے باعث 49 فیصد امریکیوں نے غیر ضروری اخراجات کم کر دیے ہیں جبکہ 40 فیصد اپنی جمع پونجی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
اس کے علاوہ 37 فیصد افراد نے بڑی خریداریوں کو فی الحال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مالی توازن برقرار رہ سکے۔ آمدن بڑھانے کے لیے 30 فیصد امریکی اضافی پارٹ ٹائم کام یا دوسرے روزگار تلاش کر رہے ہیں۔
تقریباً 29 فیصد بہتر تنخواہ والی ملازمتوں کی تلاش میں ہیں جبکہ 14 فیصد نے اپنے موجودہ اداروں سے تنخواہوں میں اضافے کا باقاعدہ مطالبہ کر دیا ہے۔
آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق وفاقی سطح پر مقرر کردہ کم از کم اجرت کی قوت خرید میں 2019 سے اب تک 21 فیصد کمی آئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کم آمدن والے طبقے کے لیے موجودہ معاشی حالات میں بنیادی ضروریات پوری کرنا اب ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر ڈیموکریٹک ارکانِ کانگریس نے ’ایڈیکویٹ پے فار آل‘ نامی بل پیش کیا ہے۔
اس قانون کے تحت 500 سے زائد ملازمین یا ایک ارب ڈالر ریونیو والی بڑی کمپنیوں کو 2031 تک کم از کم اجرت 25 ڈالر کرنا ہوگی۔
چھوٹی کمپنیوں کو کم از کم اجرت کے اس ہدف تک پہنچنے کے لیے 2038 تک کا وقت دیا جائے گا۔
پیٹریشیا اسٹوٹلمائر کے مطابق وسائل کی کمی نہیں بلکہ یہ صرف دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے درست سیاسی پالیسیوں کے انتخاب کا معاملہ ہے۔