اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

سٹیگ فلیشن: افراطِ زر کا جمود،عالمی معیشت اور صارفین پر تباہ کن اثرات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
عالمی معاشی گراف میں سٹیگ فلیشن اور عالمی معیشت کی سست روی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی معیشت اس وقت ایک تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے جسے ماہرین معاشیات ’افراطِ زر کا جمود‘ (Stagflation) قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

ایران امریکہ بڑھتی کشیدگی کے باعث توانائی، نقل و حمل اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی نمو کی رفتار کو شدید سست کر دیا ہے۔

افراطِ زر کا جمود کیا ہے؟

یہ ایک ایسی غیر معمولی معاشی حالت ہے جس میں بیک وقت مہنگائی میں اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں جمود اور بے روزگاری کے دباؤ میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ 

عام حالات میں مہنگائی تب بڑھتی ہے جب معیشت ترقی کر رہی ہو، مگر یہاں صورتحال بالکل الٹ ہے۔

افراطِ زر کے جمود کے اسباب

اس کیفیت کا بنیادی سبب ’سپلائی شاک‘ ہے، یعنی توانائی، تیل اور گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافہ یا تجارتی گزرگاہوں جیسے آبنائے ہرمز میں تعطل۔

جب پیداواری لاگت بڑھتی ہے تو کمپنیاں اشیا مہنگی کرتی ہیں، جبکہ صارفین کی قوتِ خرید کم ہونے سے طلب میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔

عالمی معاشی گراف میں سٹیگ فلیشن اور عالمی معیشت کی سست روی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی اداروں کے خدشات

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق، توانائی اور خوراک کی بلند قیمتیں عالمی افراطِ زر کو ہوا دے رہی ہیں۔

او ای سی ڈی (OECD) نے 2026 میں عالمی معاشی نمو 2.9 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ جی 20 ممالک میں افراطِ زر کی شرح 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

بینکوں کے لیے مشکل امتحان

افراطِ زر کا جمود مرکزی بینکوں کو بھی ایک کٹھن موڑ پر لا کھڑا کرتا ہے۔

اگر وہ مہنگائی روکنے کے لیے شرح سود بڑھاتے ہیں تو معاشی نمو اور روزگار متاثر ہوتے ہیں۔ اگر سود کم کرتے ہیں تو مہنگائی بے قابو ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو بھی اسی کشمکش میں ہے۔

صارفین اور کمپنیوں پر اثرات

عام گھرانوں پر اس کا اثر ایندھن، خوراک اور کرایوں میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

کمپنیاں بڑھتی لاگت کو صارفین پر منتقل کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ کم منافع والی کمپنیاں سرمایہ کاری کم کرنے یا ملازمین کی چھانٹی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں، جس سے معاشی پہیہ سست پڑ جاتا ہے۔

عالمی معاشی گراف میں سٹیگ فلیشن اور عالمی معیشت کی سست روی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی عکاسی
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مختلف ممالک پر اثرات کا فرق

توانائی برآمد کرنے والے خلیجی ممالک کو ابتدائی طور پر آمدنی میں اضافے کا فائدہ ہو سکتا ہے، تاہم درآمدی مہنگائی اور تجارتی تعطل انہیں بھی متاثر کرتے ہیں۔

توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال ادائیگیوں کے توازن کا بحران پیدا کر دیتی ہے، جس سے مقامی کرنسی کی قدر گرتی ہے۔

تاریخی تناظر

1973 کے بعد کی دہائی میں بھی دنیا نے اسی طرح کا بحران دیکھا تھا۔

اُس وقت مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود 20 فیصد تک بڑھانا پڑی تھی، جس سے مہنگائی تو کنٹرول ہوئی لیکن شدید معاشی مندی پیدا ہوئی۔

موجودہ عالمی معیشت تیل پر کم انحصار کے باوجود ان حالات سے نمٹنے کے لیے محتاط ہے۔

سرمایہ کاری اور مستقبل

موجودہ حالات میں سرمایہ کار روایتی بانڈز سے دُور ہو رہے ہیں کیونکہ افراطِ زر ان کی قدر کم کر رہا ہے، تاہم سونا ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بحران کا خاتمہ بنیادی سپلائی چین کی بحالی اور سیاسی کشیدگی میں کمی ہی سے ممکن ہے۔ افراطِ زر کا جمود محض ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ ایک پیچیدہ عالمی بحران ہے۔ 

اگرچہ آج کی معیشت 70 کی دہائی سے زیادہ لچکدار ہے، لیکن توانائی کے بحران کا طویل ہونا عالمی معاشی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ 

اس مسئلے کا حل صرف متوازن مالیاتی پالیسی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے خاتمے میں مضمر ہے۔