آسٹریلوی حکومت نے ملک کے مغربی حصوں میں چوہوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غذائی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے زرعی شعبے کے ساتھ مل کر تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
وفاقی وزیر توانائی کرس بوئن نے سڈنی سے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے تصدیق کی کہ مغربی آسٹریلیا سمیت مختلف علاقوں میں چوہوں کی یلغار ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جس پر حکومت کو اس وقت شدید تحفظات لاحق ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق چوہوں نے مغربی آسٹریلیا کی مشہور ’وہیٹ بیلٹ‘ یعنی گندم کی پٹی میں واقع فارمز پر دھاوا بول دیا ہے، جس سے
اناج کی پیداوار سے وابستہ کاشتکاروں کی مشکلات اور مالی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اناج پیدا کرنے والے کاشتکاروں نے رواں سال اپریل ہی میں خبردار کیا تھا کہ چوہوں کی وجہ سے فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس صورت حال کے پیش نظر انہوں نے حکومت سے طاقتور کیڑے مار ادویات کے استعمال کی اجازت مانگی تھی۔
وزیر کرس بوئن کا کہنا ہے کہ حکومت زرعی شعبے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اس بحران کے مقامی اور بین الاقوامی غذائی سپلائی پر پڑنے والے تمام ممکنہ منفی اثرات کو ہر ممکن حد تک کم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چوہوں کی غیرمعمولی افزائش اور ان کے حملے کسانوں، زرعی صنعت اور حکومتوں کے لیے ایک انتہائی مشکل صورتحال پیدا کر رہے ہیں جس سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کر رہے ہیں۔
نیشنل سائنس ایجنسی آسٹریلیا کے مطابق ملک کو 1993 میں چوہوں کی بدترین لہر کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے دوران ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی تھیں اور ان چوہوں نے مویشیوں کے فارمز پر بھی حملے کیے تھے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا دنیا میں گندم برآمد کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے، اسی لیے یہاں فصلوں کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان عالمی منڈیوں میں اناج کی قیمتوں اور دستیابی پر براہ راست اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔