اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

مساجد نہ قبرستان:جاپان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم عروج پر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جاپان میں جاپان میں مسلمانوں کے خلاف مہم اور مساجد کی تعمیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی عکاسی کرتی تصویر
دائیں بازو کے گروہ جاپانی ثقافت کی آڑ میں مسلمانوں کے آئینی حقوق کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

جاپان میں حالیہ عرصے کے دوران مسلمانوں کے خلاف منظم ڈیجیٹل مہم اور اسلاموفوبیا کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سرگرم انتہا پسند گروہ حجاب، مساجد کی تعمیر اور اسلامی طریقہ تدفین کے خلاف مسلسل زہریلا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔

یہ تیزی کے ساتھ بڑھتا رجحان جاپانی آئین کی دفعہ 20 کی صریح خلاف ورزی ہے جو تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور اپنی عبادات کی ادائیگی کا مکمل حق دیتی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق دائیں بازو کے گروہ جاپانی ثقافت کے تحفظ کا نام لے کر مسلمانوں کے آئینی حقوق کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔

ڈیجیٹل دنیا میں ’نیٹ یوکو‘نامی گروہ اس نفرت انگیز مہم کی قیادت کر رہا ہے جو پہلے کوریائی اور چینی باشندوں کے خلاف سرگرم تھا۔

اب یہ گروہ ’ایسوسی ایشن فار تھنکنگ اباؤٹ ڈیلنگ ود اسلام‘ جیسے ناموں سے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

واسیدا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیروفومی تانادا کی تحقیق کے مطابق 2024 کے اختتام تک جاپان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ 

یہ تعداد جاپان کی مجموعی آبادی کا محض 0.3 فیصد ہے لیکن اسے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اس مہم میں کئی سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں جن میں ٹوڈا سٹی کونسل کے رکن یوسوکے کاوائی اور سابق پارلیمانی امیدوار سوسومو کیکوتاکے نمایاں ہیں۔

انہوں نے فوجیساوا شہر میں مسجد کی تعمیر اور دیگر علاقوں میں قبرستانوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے منظم کیے ہیں۔

یاد رہے کہ صوبہ میاگی میں ستمبر 2025 میں ایک مسلم قبرستان کا منصوبہ عوامی دباؤ کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔ 

موجودہ حالات میں بااثر سوشل میڈیا صارفین اور سیاست دان اب بھی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو تدفین کے لیے زمین حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔

انتہا پسند گروہ سائنسی بنیاد کے بغیر دعویٰ کر رہے ہیں کہ اسلامی طریقہ تدفین سے زمینی پانی آلودہ ہو جائے گا۔ اسی طرح حلال خوراک کو دہشت گردی کی مالی معاونت سے جوڑ کر مقامی کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ مساجد کو جاپانی معاشرے کے امن کے لیے خطرہ قرار دے کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ مقامی بلدیاتی ادارے دباؤ میں آ جائیں۔ 

جاپان کی روایتی ثقافت میں تنازعات سے بچنے کے رجحان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ گروہ اپنے ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جاپانی عوام میں اسلام کے بارے میں معلومات کی کمی اس نفرت کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔ 

یہ صورتحال آئینی ضمانتوں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہرا تناؤ پیدا کر رہی ہے جو مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔