جاپان میں حالیہ عرصے کے دوران مسلمانوں کے خلاف منظم ڈیجیٹل مہم اور اسلاموفوبیا کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سرگرم انتہا پسند گروہ حجاب، مساجد کی تعمیر اور اسلامی طریقہ تدفین کے خلاف مسلسل زہریلا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
یہ تیزی کے ساتھ بڑھتا رجحان جاپانی آئین کی دفعہ 20 کی صریح خلاف ورزی ہے جو تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور اپنی عبادات کی ادائیگی کا مکمل حق دیتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دائیں بازو کے گروہ جاپانی ثقافت کے تحفظ کا نام لے کر مسلمانوں کے آئینی حقوق کو براہ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔
中国では、イスラム教が公式に「精神疾患」として分類され、数千ものモスクを破壊している。
— 🇯🇵砂川 泉🎌 (@26ers_bp115) April 26, 2026
インドでもイスラム教がテロの温床になっているとし、モスクを次々に取り壊している。
それなのに、日本は逆にモスクを増やそうとしている。… pic.twitter.com/ghFx9k3Q8w
ڈیجیٹل دنیا میں ’نیٹ یوکو‘نامی گروہ اس نفرت انگیز مہم کی قیادت کر رہا ہے جو پہلے کوریائی اور چینی باشندوں کے خلاف سرگرم تھا۔
اب یہ گروہ ’ایسوسی ایشن فار تھنکنگ اباؤٹ ڈیلنگ ود اسلام‘ جیسے ناموں سے مسلمانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
واسیدا یونیورسٹی کے پروفیسر ہیروفومی تانادا کی تحقیق کے مطابق 2024 کے اختتام تک جاپان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
یہ تعداد جاپان کی مجموعی آبادی کا محض 0.3 فیصد ہے لیکن اسے خطرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ギリシャが国内の60のモスクを閉鎖し、イスラム教の宗教空間を違法に作り続けている者たちを国外追放すると発表
— ちゃんほた🌸 (@hotahotasa45082) May 1, 2026
ヨーロッパのイスラム化に対抗して動き出しました
素晴らしい。日本も続こう。日本をモスクだらけにするな!
※日本のモスクは増え続けています。現在263件確認されています pic.twitter.com/xr9ZFfWDy8
اس مہم میں کئی سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں جن میں ٹوڈا سٹی کونسل کے رکن یوسوکے کاوائی اور سابق پارلیمانی امیدوار سوسومو کیکوتاکے نمایاں ہیں۔
انہوں نے فوجیساوا شہر میں مسجد کی تعمیر اور دیگر علاقوں میں قبرستانوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے منظم کیے ہیں۔
یاد رہے کہ صوبہ میاگی میں ستمبر 2025 میں ایک مسلم قبرستان کا منصوبہ عوامی دباؤ کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا۔
موجودہ حالات میں بااثر سوشل میڈیا صارفین اور سیاست دان اب بھی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو تدفین کے لیے زمین حاصل کرنے سے روکا جا سکے۔
戸田のモスクに潜入調査に行ったところ危険すぎました。 pic.twitter.com/6VfGtqy8M5
— 河合ゆうすけ【戸田市議選で歴代最多得票トップ当選】1st (@migikatakawai) April 27, 2026
انتہا پسند گروہ سائنسی بنیاد کے بغیر دعویٰ کر رہے ہیں کہ اسلامی طریقہ تدفین سے زمینی پانی آلودہ ہو جائے گا۔ اسی طرح حلال خوراک کو دہشت گردی کی مالی معاونت سے جوڑ کر مقامی کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ مساجد کو جاپانی معاشرے کے امن کے لیے خطرہ قرار دے کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ مقامی بلدیاتی ادارے دباؤ میں آ جائیں۔
جاپان کی روایتی ثقافت میں تنازعات سے بچنے کے رجحان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ گروہ اپنے ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاپانی عوام میں اسلام کے بارے میں معلومات کی کمی اس نفرت کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔
یہ صورتحال آئینی ضمانتوں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہرا تناؤ پیدا کر رہی ہے جو مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
今日も新宿はヒジャブだらけ!
— キクタケ進\藤沢モスク反対!/衆院選 神奈川12区で共産党の倍の2万1089票獲得 (@s_kikutake) April 30, 2026
日本は土葬禁止です!
イスラムはもう入ってこないで!#他文化強制反対#藤沢モスク反対 pic.twitter.com/NYxFdj1mU0