اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

ریڈکراس: ایران کے خلاف جنگ کی صورت میں علاقائی تباہی کا شدید خطرہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مصر کے دارالحکومت میں قاہرہ میں بچی پر تشدد اور اسے لاوارث چھوڑنے کے واقعے کی علامتی تصویر
انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس تنازع سے لاکھوں افراد براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی صدر مریانا سپولیارچ نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں وسیع پیمانے پر انسانی تباہی کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

مزید پڑھیں

اپنی گفتگو میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس تنازع سے لاکھوں افراد براہ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔

الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں مریانا سپولیارچ نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا تاکہ وہاں انسانی بنیادوں پر جنگی تیاریوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے جنگ کے دوبارہ آغاز پر شہریوں کے 

مستقبل کے بارے میں گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

ریڈ کراس کی صدر کے مطابق اگر ایران میں دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو شہری آبادی کے لیے صورتحال انتہائی خطرناک ہو جائے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ شہری انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے پانی اور مواصلات جیسی بنیادی خدمات متاثر ہوں گی جس سے کروڑوں لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

israel attack lebanon iran war 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مریانا سپولیارچ نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پڑوسی ممالک سمیت پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ انسانی تحفظ کا واحد راستہ مذاکرات کی میز پر واپسی ہے۔

انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ریڈ کراس ایرانی ہلال احمر کے تعاون سے طبی سامان کی فراہمی اور تیاریوں کو بہتر بنا رہی ہے، تاہم موجودہ حالات میں وسائل محدود ہیں۔

رضاکار ملبے تلے دبے لوگوں کو ہاتھوں سے نکالنے پر مجبور ہیں، جو کہ ایک بڑا چیلنج ہے۔

لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ چند ہفتوں کے دوران وہاں 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ وسیع پیمانے پر تباہی کی وجہ سے کئی دیہات و رہائشی علاقے مکمل طور پر ملیا میٹ ہو گئے ہیں۔

لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کی ملاقات، واشنگٹن میں مارکو روبیو کا دفتر
بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد کے مناظر (فوٹو: انٹرنیٹ)

لبنان میں بار بار نقل مکانی کی وجہ سے بہت سے لوگ شاید کبھی اپنے گھروں کو واپس نہ جا سکیں۔ وہاں صحت کا ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور مرمت کی گئی طبی تنصیبات کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے رسائی ناممکن ہو گئی۔

غزہ کے متعلق مریانا سپولیارچ نے کہا کہ یہ علاقہ اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ وہاں خوراک کی شدید قلت ہے، بچے تعلیم سے محروم ہیں اور اسپتالوں کی دوبارہ تعمیر ممکن نہیں ہو پا رہی کیونکہ ملبہ ہٹانے کا کوئی نظام موجود نہیں۔

ریڈ کراس اس وقت جنوبی غزہ میں ایک فیلڈ اسپتال چلا رہی ہے، جو گزشتہ ایک سال سے کام کرنے والا واحد طبی مرکز ہے۔ 

اگرچہ ایسے مراکز عارضی ہوتے ہیں، لیکن وہاں کی سنگین صورتحال کے باعث اسے مستقل چلانا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے طبی اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی اور فلسطینی ہلال احمر سمیت لبنانی ریڈ کراس کے کئی رضاکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں کی صلاحیت براہ راست متاثر ہو رہی ہے۔

ریڈ کراس کی سربراہ نے عالمی برادری سے انسانی پہلوؤں پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار انسانی دکھوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، اس لیے محض نمبرز کے بجائے لاکھوں انسانوں کی غیر یقینی زندگیوں کو دیکھا جائے۔