مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک دلخراش واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں ایک 4 سالہ معصوم بچی کو اس کے کھلونوں اور کپڑوں کے تھیلے سمیت سڑک پر لاوارث حالت میں پھینک دیا گیا۔
مزید پڑھیں
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ بچی شدید صدمے کی حالت میں رو رہی ہے، جبکہ اس کے چہرے اور گردن پر بدترین جسمانی تشدد کے واضح اور گہرے نشانات موجود ہیں۔
عوامی حلقوں میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق بچی کی ماں نے اپنے دوسرے شوہر کے دباؤ پر اسے گھر سے نکال دیا تھا، کیونکہ اس کا نیا شوہر بچی کو اپنے ساتھ رکھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
ایک شہری نے بچی کی یہ حالتِ زار دیکھ کر اس کی ویڈیو بنائی اور اسے انٹرنیٹ پر شیئر کیا تاکہ اس کے اہل خانہ کا پتا لگایا جا سکے اور معصوم بچی کو فوری طور پر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ویڈیو میں جب بچی سے اس پر تشدد کرنے والے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے ’اسلام‘نام لیا، تاہم اس کی کم عمری کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شخص اس کا رشتہ دار ہے۔
مقامی افراد بچی کو فوری طور پر قاہرہ کے علاقے عمرانیہ کے پولیس اسٹیشن لے گئے تاکہ اسے قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے اور حکام اس کے اصل والدین یا دیگر قانونی سرپرستوں سے رابطہ کر کے کارروائی کریں۔
سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہونے کے بعد بچی کے والد نے، جو اس کی ماں سے علیحدہ ہو چکے تھے، اسے پہچان لیا اور فوری طور پر پولیس اسٹیشن پہنچ کر اپنی بیٹی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
اس واقعے پر مصر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بچی پر تشدد کرنے والی سنگدل ماں اور اس کے شوہر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں پر تشدد کے خلاف قوانین کو مزید سخت کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی معصوم بچے کے ساتھ ایسا غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک نہ ہو۔
مصری حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے کی مکمل تفصیلات یا ملوث افراد کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم پولیس اس سنگین معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔