اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی: ایران دفاع کی تیاری کیسے کررہا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مشرق وسطیٰ کے نقشے پر ایران کی عسکری تیاری اور دفاعی میزائل نظام کی عکاسی کرتی تصویر
تہران کو خدشہ ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کسی بھی وقت تیز اور مرکوز حملے کر سکتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

موجودہ غیر مستحکم جنگ بندی کے درمیان تہران، امریکہ کی جانب سے کسی بھی اچانک اور نئی فوجی کارروائی کو ایک ممکنہ خطرہ تصور کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق امریکی وار پاورز ایکٹ کے تحت 60 روزہ مہلت ختم ہونے کے قریب ہے، جس نے سفارتی مذاکرات اور عسکری تصادم کے مابین ایک حساس صورتحال پیدا کر دی ہے۔

فوجی دباؤ اور واشنگٹن کی حکمت عملی

امریکی کانگریس کو عسکری آپریشنز سے متعلق دیے گئے نوٹس کے بعد قانونی مہلت اپنے اختتام کے قریب ہے۔ 

امریکی انتظامیہ موجودہ جنگ بندی کو دشمنی کا خاتمہ قرار دے رہی ہے، جبکہ تہران کو خدشہ ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کسی بھی وقت تیز اور مرکوز حملے کر سکتی ہے۔

ایرانی ردعمل اور ڈیٹرنس کی پالیسی

تہران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے محدود حملے کی صورت میں بھی بھرپور اور منہ توڑ جوابی کارروائی کی جائے گی۔

ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ردعمل کا دائرہ کار صرف جوابی حملوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے وسیع تر محاذوں تک پھیلایا جائے گا۔

iran us 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

آبنائے ہرمز اور بحری محاذ پر کشیدگی

ایرانی ڈیٹرنس حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی آئی ہے، جس میں اب صرف فوجی اڈوں کو نہیں بلکہ بحری جہازوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کو بھی ہدف بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں کسی بھی بین الاقوامی عسکری اتحاد کی موجودگی کو کھلی اشتعال انگیزی قرار دیتا ہے۔

تہران کی عسکری تیاری اور جوابی منصوبے

رپورٹ کے مطابق ایرانی خاتم الانبیا ہیڈ کوارٹر نے مکمل تیاری اور اہداف کی ایک مفصل فہرست تیار کر رکھی ہے۔

ایرانی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ زمینی معرکوں سمیت پیچیدہ عسکری منظرناموں کے لیے خود کو تیار رکھنا امریکی حملے کی سیاسی و عسکری قیمت بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے۔

irani missile
(فوٹو: انٹرنیٹ)

سفارتی تعطل اور تین مرحلہ وار تجویز

سیاسی محاذ پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی معاملات پر گہرے اختلافات موجود ہیں۔

ایران نے ایک 3 نکاتی تجویز پیش کی ہے جس میں جنگ بندی کا مستقل قیام، بحری ناکابندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے بدلے جوہری مذاکرات کی بحالی شامل ہے۔

ایران کی جانب سے عسکری تیاری اور محتاط سفارتکاری کے متوازی راستے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تہران مکمل تصادم سے بچنا چاہتا ہے۔ 

تاہم امریکی مطالبات میں سختی اور تہران کی شرائط سے اختلاف کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جو کسی بھی وقت کسی بڑے واقعے کو جنم دے سکتی ہے۔