یکم مئی کا دن دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق، ان کے حالاتِ زندگی اور کام کے اوقات کے تعین کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔
مزید پڑھیں
اس دن دنیا کے تقریباً 100 ممالک میں عام تعطیل ہوتی ہے، جہاں مزدور طبقہ اپنی کامیابیوں کا جائزہ لیتا ہے اور نئے مطالبات سامنے لاتا ہے۔
مزدور تحریک کا آغاز اور ارتقا
مزدور تحریک کی باقاعدہ ابتدا 21 اپریل 1856 کو آسٹریلیا سے ہوئی، جہاں کارکنوں نے کام کے اوقات مقرر کرنے کے لیے پہلی بار آواز اٹھائی۔
بعد ازاں یہ تحریک کینیڈا پہنچی، جہاں 1872 میں ’ٹریڈ یونین ایکٹ‘
کے تحت مزدوروں کو قانونی تحفظ اور تنظیمی حقوق حاصل ہوئے۔
امریکہ میں مزدور تحریک کا عروج
امریکی مزدور رہنما پیٹر میکگواائر نے ٹورنٹو سے متاثر ہو کر 1882 میں نیویارک میں پہلی بار سرکاری سطح پر مزدور دن منایا۔
1886 تک یہ تحریک شدت اختیار کر گئی، جس میں شکاگو اور کیلیفورنیا کے کارکنوں نے روزانہ 8 گھنٹے کام کے دورانیے کا مطالبہ زور و شور سے کیا۔
حقوق کا مطالبہ اور سانحہ
یکم مئی 1886 کو امریکہ بھر میں 5 ہزار ہڑتالیں ہوئیں، جن میں 3 لاکھ 40 ہزار مزدوروں نے حصہ لیا۔
اس دوران شکاگو میں احتجاج کے دوران ہونے والی ہائے مارکیٹ جھڑپوں میں 12 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن کا مطالبہ تھا کہ 8 گھنٹے کام، 8 گھنٹے آرام اور 8 گھنٹے نیند۔
یکم مئی کی عالمی اہمیت
1889 میں پیرس میں منعقدہ ’سوشلسٹ انٹرنیشنل‘ کی پہلی کانگریس نے یکم مئی کو عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا۔
1904 میں ایمسٹرڈیم کانگریس نے مزید زور دیا کہ تمام ممالک یکم مئی کو سرکاری تعطیل قرار دیں۔ 1955 میں کیتھولک چرچ نے بھی اس دن کو مزدوروں کے لیے مختص کیا۔
سیاسی پہلو اور امریکی مؤقف
امریکہ اور کینیڈا میں یوم مزدور ستمبر کے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے۔ صدر گروور کلیولینڈ نے یکم مئی کو ہائے مارکیٹ کے پرتشدد واقعات سے جوڑنے سے گریز کیا۔
تاہم 1958 میں امریکی کانگریس نے اس دن کو ’یومِ وفاداری‘ کے طور پر تسلیم کر لیا، جہاں اب سماجی و معاشی احتجاج ہوتے ہیں۔
عالمی یومِ مزدور اب محض چھٹی کا دن نہیں، بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں مزدور اپنی سیاسی، اقتصادی اور سماجی مشکلات کو اجاگر کرتے ہیں۔
یہ دن عالمی سطح پر معاشی مساوات اور انسانی حقوق کے لیے جاری طویل جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جو آج بھی جاری ہے۔