ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ طویل اوقاتِ کار میں سرفہرست ہے، جہاں 47 فیصد کارکن ہفتے میں 48 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں۔
اسی طرح غیر رسمی شعبے کے کارکن ’41 فیصد‘ رسمی شعبے ’28 فیصد‘ کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ، ریٹیل اور مینوفیکچرنگ کے شعبے سب سے زیادہ متاثرہ قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 23 فیصد کارکن کسی نہ کسی شکل کی تشدد یا ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ 18 فیصد نفسیاتی بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔
خواتین خاص طور پر جنسی ہراسانی کے خطرے سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، جس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
کام کا دباؤ قاتل بن گیا: دنیا بھر میں سالانہ 8 لاکھ 40 ہزار اموات
Overseas Post