اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

کام کا دباؤ قاتل بن گیا: دنیا بھر میں سالانہ 8 لاکھ 40 ہزار اموات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کام کا دباؤ اموات
سالانہ 840,000 سے زائد اموات کام کے دباؤ اور نفسیاتی خطرات سے منسلک

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ میں تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جو جدید کام کے ماحول کو ہر سال ہزاروں اموات سے جوڑتے ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق پیشہ ورانہ دباؤ اور طویل اوقاتِ کار ایسے سنگین صحتی نقصانات کا باعث بنتے ہیں جو محض تھکن سے بڑھ کر مہلک بیماریوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

ChatGPT Image 30 أبريل 2026، 11 03 41 م

فورچیون ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 8 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد نفسیاتی اور سماجی خطرات کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں کام کا دباؤ، عدم تحفظ، ہراسانی اور بدسلوکی شامل ہیں۔ 

مزید پڑھیں

اندازوں کے مطابق یہ عوامل تقریباً 840,088 اموات کا سبب بنتے ہیں، جبکہ تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ صحت مند زندگی کے سال بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔

“کام کے ماحول کے نفسیاتی و سماجی پہلو: عالمی پیش رفت اور لائحہ عمل” کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کام سے جڑے نفسیاتی خطرات صرف ذہنی دباؤ تک محدود نہیں بلکہ یہ براہِ 

راست جسمانی بیماریوں کا باعث بھی بن رہے ہیں، جو صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق دل اور خون کی نالیوں کی بیماریاں سب سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہیں، جن کی تعداد 783,694 تک پہنچتی ہے، جن میں دل کے دورے اور فالج جیسے امراض شامل ہیں۔ 

frustrated businessman shouting at colleague in of 2026 03 26 04 46 57 utc
35% کارکن ہفتے میں 48 گھنٹے سے زائد کام کرتے ہیں

دوسری جانب ذہنی امراض، بشمول ڈپریشن، 56,394 اموات کا باعث بنتے ہیں، تاہم طویل المدت اثرات کے لحاظ سے یہ زیادہ نقصان دہ ہیں کیونکہ یہ مستقل معذوری کا سبب بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 35 فیصد کارکن ہفتے میں 48 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں، جبکہ سابقہ مطالعات کے مطابق صرف طویل اوقاتِ کار ہی سالانہ تقریباً 7 لاکھ 45 ہزار اموات سے منسلک ہیں۔ 

رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ صحت مند حدود سے تجاوز ’سنگین نتائج‘ کا باعث بن سکتا ہے۔

23 فیصد افراد ہراسانی اور
18 فیصد ذہنی بدسلوکی کا شکار

ایشیا اور بحرالکاہل کا خطہ طویل اوقاتِ کار میں سرفہرست ہے، جہاں 47 فیصد کارکن ہفتے میں 48 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں۔
اسی طرح غیر رسمی شعبے کے کارکن ’41 فیصد‘ رسمی شعبے ’28 فیصد‘ کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ، ریٹیل اور مینوفیکچرنگ کے شعبے سب سے زیادہ متاثرہ قرار دیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 23 فیصد کارکن کسی نہ کسی شکل کی تشدد یا ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ 18 فیصد نفسیاتی بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں۔
خواتین خاص طور پر جنسی ہراسانی کے خطرے سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، جس سے مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

group of businessmen whispering behind back of bus 2026 03 24 02 24 02 utc
خواتین خاص طور پر جنسی ہراسانی کے خطرے سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں

ان مسائل کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ معاشی سطح پر بھی نمایاں ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق ان خطرات کے باعث عالمی معیشت کو سالانہ تقریباً 1.37 فیصد جی ڈی پی کے برابر نقصان ہوتا ہے، جو پیداوار میں کمی اور صحت کی دیکھ بھال کے بڑھتے اخراجات کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ میں فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جس میں نفسیاتی و سماجی خطرات کے مؤثر انتظام کو پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے نظام کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ 

stressed woman with overwhelming workload in offic 2026 03 25 06 12 21 utc
عالمی معیشت کو 1.37% جی ڈی پی کے برابر نقصان

اس کے علاوہ قوانین میں بہتری، نگرانی میں اضافہ، کام کے ماحول کی ازسرِ نو تشکیل، اور ملازمین کے لیے کام اور زندگی کے درمیان بہتر توازن پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔