9۔ طواف کے ہر
چکر کے لئے دعائیں مختص کرنا غلط ہے
10۔دعا کرتے وقت اونچی آواز میں چیخ و پکار کرنا غلط ہے۔
ایسا کرنے سے خشوع و خضوع ختم ہوجاتا ہے اور طواف کرنے والوں کو الجھن ہوتی ہے۔
11۔ طواف کے دوران قافلے کے کسی فرد کی جانب سے دعاؤں کی تلقین کرنا اور جواب میں پورے گروپ کی جانب سے اس دعا کو دہرانا خلاف سنت ہے۔
جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں ایسا کرنے سے دیگر طواف کرنے والوں کا دھیان بٹتا ہے اورانہیں اذیت بھی ہوتی ہے۔
12۔ حجر اسود کے سامنے دیر تک کھڑے ہونا غلط ہے، ایسا کرنے سے طواف کرنے والے دیگر بھائیوں کو تنگی محسوس ہوتی ہے۔
سنت یہ ہے کہ حجر اسود کو بوسہ دیا جائے یا اسکی طرف اشارہ کرکے کسی توقف کے بغیر آگے بڑھ جائے۔
13۔ بعض حضرات خانہ کعبہ اور اسکے غلاف کو تبرک کی خاطر چھوتے ہیں یہ بھی غلط ہے۔ خانہ کعبہ سے جائز تبرک طواف کی صورت میں مقرر ہے۔
خانہ کعبہ کے غلاف کو چھونا رسول اللہﷺسے ثابت نہیں۔
14۔ بعض حضرات خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت اوپر والی چادر اتار لیتے ہیں اور صرف تہہ بند پر اکتفا کرتے ہیں۔
بعض حضرات تہہ بند ناف سے نیچے باندھ لیتے ہیں یا ان کا تہہ بند ناف سے نیچے پھسل جاتا ہے، ایسی صور ت میں انکی شرم گاہ کا کچھ حصہ نظرآ نے لگتا ہے، یہ شرعاً جائز نہیں۔
15۔ مقام ابراہیم کو چھونا اور اسے تبرک کی نیت سے بوسہ دینا غلط ہے۔
درست یہ ہے کہ مقام ابراہیم کو نہ تو بوسہ دیا جائے اور نہ ہی چھو کر تبرک حاصل کرنے کا چکر چلایا جائے۔
رسول اللہﷺ سے مقام ابراہیم کو چھونا اور بوسہ دینا ثابت نہیں۔
16۔ بعض لوگ سوچتے ہیں کہ رکن یمانی کو بوسہ دینا یا حجر اسود کو بوسہ دینا عبادت نہیں بلکہ تبرک کی وجہ سے ہے، یہ سوچ غلط ہے۔
اس غلط سوچ کے نتیجے میں بعض حضرات حجر اسود کو چھوتے ہیں یا رومال رکن یمانی پر ڈال کر تبرک حاصل کرنے لگتے ہیں یہ سب غلط ہے۔
بعض حضرات خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت اوپر والی چادر اتار لیتے ہیں
اسی طرح سے بعض والدین اپنے بچوں کو تبرک کی خاطر حجر اسود سے قریب کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ سب غلط ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ حجر اسود کا بوسہ اور رکن یمانی کا استلام نبی کریم ﷺ کی پیروی میں کیا جاتا ہے۔
17۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو طواف کرائے اور اپنے بیٹے اور اپنے لئے طواف کی نیت کرلے تو یہ طواف صرف بیٹے کی طرف سے ہوگا اسکی جانب سے نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ طواف دونوں کی طرف سے کافی ہوگا کیونکہ طواف کی نیت یا تو دونوں نے کی ہے یا دونوں کی طرف سے نیت کرلی گئی ہے اور دونوں نے صحیح طواف کیا ہے لہذا طواف دونوں کا صحیح اور معتبر ہوگا۔
18۔ بعض لوگ حجر اسود تک پہنچنے سے چند قدم پہلے ہی طواف ختم کردیتے ہیں۔
فرض یہی ہے کہ طواف کی تکمیل کا پورا یقین کرلیا جائے کیونکہ ایک چکر کے کچھ حصے کو ترک کردینے سے پورے چکر کا عمل باطل ہو جاتا ہے۔