اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

ایک غیر روایتی گھڑی مشہور شخصیات کی پسندیدہ  آخر کیسے بن گئی؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تاریخی اور نایاب کارٹیئر کریش گھڑی کا مخصوص لہراتا ہوا ڈیزائن اور سونے کا کیس
ہانگ کانگ میں Sotheby’s کے زیرِ اہتمام نیلامی میں 1987 میں تیار کی گئی Cartier London Crash گھڑی 19 لاکھ 93 ہزار 539 ڈالر میں فروخت ہوئی، جس کے ساتھ ہی Cartier کی گھڑیوں کے لیے ایک نیا ریکارڈ قائم ہو گیا (فوٹو: انٹرنیٹ)

کارٹیئر (Cartier) کی ایک سونے کی نایاب گھڑی نے حال ہی میں تقریباً 20 لاکھ ڈالر میں فروخت ہو کر تاریخ رقم کر دی ہے۔

مزید پڑھیں

ہانگ کانگ میں سودبیز (Sotheby’s) کی نیلامی میں فروخت ہونے والی یہ گھڑی اب تک کی سب سے مہنگی فروخت ہونے والی کارٹیئر کریش تسلیم کی گئی ہے۔

غیر معمولی اور انوکھا ڈیزائن

یہ گھڑی اپنے مڑے ہوئے اور لہراتے ہوئے ڈیزائن کی وجہ سے دیگر روایتی گھڑیوں سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ 

اس کا غیر متوازن ڈھانچہ مشہور آرٹسٹ سلواڈور ڈالی کی سُرئیلزم (Surrealism) پینٹنگز کی یاد دلاتا ہے، جو اسے لگژری مارکیٹ میں ایک منفرد مقام فراہم کرتا ہے۔

تاریخی اور نایاب کارٹیئر کریش گھڑی کا مخصوص لہراتا ہوا ڈیزائن اور سونے کا کیس
1991 کی تیار کردہ Cartier Crash گھڑی 2022 کی ایک نیلامی میں 7 لاکھ سوئس فرانک سے زائد قیمت پر فروخت ہوئی (فوٹو: انٹرنیٹ)

کیا یہ گھڑی کسی حادثے کا نتیجہ تھی؟

اس گھڑی کی تخلیق کے پیچھے ایک دلچسپ کہانی مشہور ہے۔

کہتے ہیں کہ 1967 میں لندن کے نیو بونڈ اسٹریٹ پر واقع کارٹیے اسٹور میں ایک کلائنٹ اپنی حادثہ زدہ گھڑی لایا، جس کا بیضوی ڈھانچہ حادثے کی گرمی سے پگھل کر ٹیڑھا ہو گیا تھا، جسے دیکھ کر ڈیزائنرز نے متاثر ہو کر اسے نئے ماڈل کے طور پر پیش کیا۔

تاریخی تناظر اور حقیقی کہانی

دوسری طرف فرانسسکا کارٹیے بریکل نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ یہ محض ایک افسانہ ہے۔

انہوں نے لکھا کہ یہ ڈیزائن دراصل ’میکسی اوول‘ ماڈل میں جان بوجھ کر ردوبدل کر کے بنایا گیا تھا تاکہ ان خاص صارفین کی خواہش پوری کی جا سکے جو منفرد گھڑیاں چاہتے تھے۔

تاریخی اور نایاب کارٹیئر کریش گھڑی کا مخصوص لہراتا ہوا ڈیزائن اور سونے کا کیس
1978 میں Cartier کا نیو بونڈ اسٹریٹ پر واقع اسٹور (فوٹو: انٹرنیٹ)

مشکلات اور ابتدائی ناکامی

ابتدا میں اس گھڑی کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔ اس کا غیر معمولی ڈائل وقت دیکھنے میں دشواری پیدا کرتا تھا، جس کی وجہ سے اداکار اسٹیورٹ گرینجر جیسے ابتدائی خریداروں نے اسے واپس کر دیا تھا۔

اس وقت اسے بہت زیادہ غیر روایتی ڈیزائن سمجھا گیا تھا۔

مشاہیر کی توجہ اور بڑھتی مقبولیت

بعد ازاں کانیے ویسٹ، تیموتھی شالامے اور کم کارڈیشین جیسے ستاروں کے ہاتھوں میں نظر آنے کے بعد اس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

اب یہ گھڑی محض وقت بتانے کا آلہ نہیں، بلکہ ایک فیشن اسٹیٹمنٹ اور اسٹیٹس سمبل بن چکی ہے جسے دنیا بھر کے کلکٹرز تلاش کرتے ہیں۔

قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

2021 میں جنیوا میں اس کا ایک ماڈل 10 لاکھ ڈالر سے زائد میں فروخت ہوا، جس کے بعد اس کی قیمتوں کا گراف تیزی سے اوپر گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی محدود تعداد ہی اس کی بلند قیمتوں اور نایاب ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے، کیونکہ یہ صرف سیکڑوں کی تعداد میں ہی موجود ہے۔

تاریخی اور نایاب کارٹیئر کریش گھڑی کا مخصوص لہراتا ہوا ڈیزائن اور سونے کا کیس
ٹموتھی شالامے نے 2024 کے گولڈن گلوب ایوارڈز میں 2013 ایڈیشن کی ہیروں سے مزین Cartier Crash گھڑی پہن رکھی تھی (فوٹو: انٹرنیٹ)

ماہرین کی نظر میں اس کی اہمیت

سودبیز کے ماہر ٹام ہیپ کے مطابق یہ بڑی اور بھاری ہیروں والی گھڑیوں کا ایک شاندار اور سادہ متبادل ہے۔

اس کا لیدر اسٹریپ اور چھوٹا سائز اسے ایک ایسی ’رسمی گھڑی‘ بناتا ہے جو اپنی کلاسیکی نفاست کی وجہ سے جدید دور کے مشاہیر میں بے حد مقبول ہے۔

’کارٹیئر کریش‘ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک عجیب اور غیر روایتی تصور وقت کے ساتھ ساتھ ایک شاہکار کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ 

اس کی کہانی صرف ڈیزائن کی نہیں، بلکہ مارکیٹنگ، ندرت اور ثقافتی اثرات کی ہے، جس نے اسے لگژری واچ مارکیٹ میں ایک غیر معمولی مقام دلایا ہے۔

تاریخی اور نایاب کارٹیئر کریش گھڑی کا مخصوص لہراتا ہوا ڈیزائن اور سونے کا کیس
Tyler, the Creator نے اپنے گانے Lumberjack کے میوزک ویڈیو میں Cartier Crash گھڑی استعمال کی (فوٹو: انٹرنیٹ)