اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

کھیلوں کا شعبہ: مملکت میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے بھرپور مواقع

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب میں کھیلوں کے شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید اسٹیڈیمز کے تعمیراتی منصوبوں کا خاکہ
ان مواقع میں بنیادی طور پر انفرا اسٹرکچر پروجیکٹس شامل ہیں جو فیفا ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی سے منسلک ہیں

وزارتِ سرمایہ کاری میں اسپورٹس انویسٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہاشم ابراہیم نے انکشاف کیا ہے کہ مملکت میں کھیلوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کی مالیت 18 ارب ریال (تقریباً 5 ارب ڈالر) تک پہنچ چکی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ پیش رفت 2030 تک اس مارکیٹ کا حجم 85 ارب ریال (تقریباً 22.7 ارب ڈالر) تک لے جانے کی پیش گوئی کرتی ہے۔

دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ’اسپورٹس انویسٹمنٹ فورم 2026‘ کے پہلے دن کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہاشم ابراہیم نے بتایا کہ وزارت مختلف سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

ان مواقع میں بنیادی طور پر انفرا اسٹرکچر پروجیکٹس شامل ہیں جو فیفا 

ورلڈ کپ 2034 کی میزبانی سے منسلک ہیں۔

ورلڈ کپ 2034 کی تیاریاں اور ٹریننگ کیمپس

سعودی عرب میں کھیلوں کے شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید اسٹیڈیمز کے تعمیراتی منصوبوں کا خاکہ
وزارتِ سرمایہ کاری میں اسپورٹس انویسٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہاشم ابراہیم میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں

ہاشم ابراہیم نے بتایا کہ ان تیاریوں کے تحت مملکت کے مختلف حصوں میں کم از کم 135 ٹریننگ کیمپس قائم کیے جائیں گے۔

ہر کیمپ میں سرمایہ کاری کی مالیت 20 سے 40 ملین ریال کے درمیان ہوگی، جس سے اس مد میں مجموعی سرمایہ کاری کا حجم 5.4 ارب ریال (تقریباً 1.45 ارب ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔

وزارت نے نجی شعبے کو ان ٹریننگ کیمپس کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ 

ابراہیم کے مطابق سرمایہ کاروں کو سرکاری ٹینڈرز کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ابھی سے ان منصوبوں پر کام شروع کر سکتے ہیں۔ 

یہ کیمپس ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے لازمی شرائط کا حصہ ہیں جن میں جدید تربیتی سہولیات اور مربوط انفرا اسٹرکچر شامل ہے۔

مکمل معاشی نظام کی تعمیر

واضح رہے کہ مملکت کا ہدف صرف اسٹیڈیم بنانا نہیں بلکہ ورلڈ کپ 2034 کے گرد ایک مکمل معاشی نظام (Ecosystem) تشکیل دینا ہے۔

حکام کے مطابق ورلڈ کپ اب ایک حقیقت ہے اور مقصد صرف کھیل نہیں بلکہ لاجسٹک روابط اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے جو نہ صرف سیاحوں بلکہ مقامی آبادی کے لیے بھی سودمند ہو۔

ہاشم ابراہیم نے توقع ظاہر کی کہ دسمبر 2024 میں ورلڈ کپ کی میزبانی کے باقاعدہ حقوق ملنے کے بعد منصوبوں کی تکمیل اور حتمی انتظامات کے لیے 100 ارب ریال کے اضافی فنڈز مارکیٹ میں آنے کی توقع ہے۔

سعودی عرب میں کھیلوں کے شعبے میں سرمایہ کاری اور جدید اسٹیڈیمز کے تعمیراتی منصوبوں کا خاکہ
مملکت میں کھیلوں کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کی مالیت 18 ارب ریال (تقریباً 5 ارب ڈالر) تک پہنچ چکی ہے (فوٹو: اے آئی)

انفرا اسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی

وزارتِ سرمایہ کاری نے مشرقی ریجن میں ایک ’اسپورٹس سٹی‘ کی تعمیر کا منصوبہ بھی پیش کیا ہے جس کی مالیت ایک ارب ریال (تقریباً 270 ملین ڈالر) ہے۔

تیاریوں کا یہ سلسلہ صرف عمارتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں انسانی وسائل کی ترقی پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ 

ہاشم ابراہیم نے بتایا کہ اسکولوں میں ٹیلنٹ کی تلاش کے پروگرام شروع کیے جائیں گے، اسپورٹس اکیڈمیاں قائم کی جائیں گی تاکہ کھلاڑیوں کی ایک نئی نسل تیار کی جا سکے جو عالمی سطح پر مملکت کی نمائندگی کر سکے۔

یاد رہے کہ عالمی مشاورتی فرم ’اولیور وائیمن‘کی 2025 کے اواخر میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کا کھیلوں کا شعبہ ایک اہم موڑ سے گزر رہا ہے اور آنے والے برسوں میں یہاں 17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔