امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی جانے والی جنگ نے عالمی توانائی اور تجارت کے حساس ترین خطوں میں شدید تناؤ پیدا کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اس عسکری تصادم کے اثرات صرف جنگی میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی منڈیوں اور بحری راستوں کے ذریعے دُور دراز ممالک تک پہنچ گئے ہیں۔
عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کلیدی ہے کیونکہ یہاں سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل خام تیل گزرتا ہے۔
مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی اسی اہم بحری راستے سے سپلائی کی جاتی ہے۔
آبنائے ہرمز سے عالمی کنٹینر ٹریفک کا 2 سے 3 فیصد حصہ گزرتا ہے، جس کی بندش سے بحری و فضائی مال برداری شدید متاثر ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی ایئر لائنز عالمی ایئر کارگو کی 13 فیصد صلاحیت رکھتی ہیں، جو اب عالمی تجارتی نیٹ ورک میں ایک بڑا رکاوٹ بن چکی ہیں۔
زرعی تحفظ کے حوالے سے یہ خطہ انتہائی اہم ہے کیونکہ عالمی سطح پر یوریا کی ایک تہائی برآمدات یہیں سے ہوتی ہیں۔
دنیا کی 30 فیصد امونیا اور 50 فیصد یوریا کی سپلائی چین اسی راستے سے منسلک ہے، جو عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔
بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کے بجائے اب راس الرجاء الصالح کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے فی چکر لاگت 4 ملین ڈالر بڑھ گئی ہے۔
انشورنس کمپنیوں نے بھی جنگی خطرات کے باعث کوریج کم کر دی ہے، جس سے عالمی سپلائی چین مکمل طور پر درہم برہم ہو گئی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں ہر 10 ڈالر کے مستقل اضافے سے عالمی شرح نمو میں 10 سے 20 پوائنٹس کی کمی واقع ہوتی ہے۔
اس اضافے سے دنیا بھر میں مہنگائی کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر اور غریب افریقی ممالک کی معیشتوں پر پڑ رہا ہے۔
افریقی ممالک اپنی توانائی اور بنیادی اشیاء کے لیے درآمدات پر منحصر ہیں، جس کی وجہ سے وہ بیرونی جھٹکوں کا جلد شکار ہوتے ہیں۔
نائیجیریا اور انگولا جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی ریفائنریوں کی کمی کے باعث اپنی ضرورت کی پیٹرولیم مصنوعات مہنگے داموں درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔
افریقہ سالانہ 120 ارب ڈالر پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ کرتا ہے جبکہ وہ اپنا 70 فیصد خام تیل اور 45 فیصد گیس برآمد کر دیتا ہے۔
مقامی سطح پر تیل صاف کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے براعظم کو سالانہ 15 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
افریقہ میں زراعت معیشت کا ستون ہے لیکن کھادوں کی قیمتوں میں 35 فیصد اضافے نے غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
مشرقی افریقہ میں اناج کی پیداوار 16 فیصد تک گر گئی ہے، جس سے مزید 7 ملین افراد شدید ترین غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد افریقہ کے 29 ممالک کی کرنسیوں کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا کے مطابق تیل کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ عالمی مہنگائی میں فوری طور پر 40 پوائنٹس کے اضافے کا باعث بنتا ہے۔
افریقہ کا مجموعی قرضہ 2024 میں 1.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا دو تہائی حصہ بنتا ہے۔
افریقی حکومتیں اپنی آمدنی کا 31 فیصد حصہ غیر ملکی قرضوں کی واپسی پر خرچ کر رہی ہیں، جو کہ ایک تشویشناک ریکارڈ سطح ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کے بعد سمندر پار مقیم افریقیوں کی ترسیلات زر معیشت کے لیے واحد سہارا بن گئی ہیں۔
2023 میں یہ ترسیلات 100 ارب ڈالر رہیں، جو براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور سرکاری امداد کے مجموعی حجم سے بھی کہیں زیادہ بڑی رقم ہے۔
خلیجی ممالک افریقہ کے لیے ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں کیونکہ وہاں لاکھوں افریقی برسرروزگار ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی معاشی سست روی یا جنگ ان ترسیلات کو براہ راست متاثر کرتی ہے، جس سے کروڑوں افریقی خاندانوں کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے۔
افریقی معیشتوں کی ساخت ایسی ہے کہ وہ 70 فیصد خام مال برآمد اور 60 فیصد تیار شدہ اشیاء درآمد کرتی ہیں۔
یورپی یونین اب بھی افریقہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جو اس کی برآمدات کا 43 فیصد حصہ خریدتا ہے اور 34 فیصد درآمدات فراہم کرتا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ پر افریقی حکومتیں سبسڈیز ختم کرنے اور شرح سود بڑھانے جیسے سخت اقدامات کر رہی ہیں۔
ان پالیسیوں سے جہاں غریب عوام پر بوجھ بڑھ رہا ہے، وہیں سماجی بہبود کے پروگراموں میں بھی مزید کٹوتی کی جا رہی ہے تاکہ قرضوں کی واپسی ممکن ہو۔
افریقہ جو بھی ڈالر قرض لیتا ہے، اس میں سے 70 سینٹ سرمایہ کی منتقلی کی صورت میں دوبارہ براعظم سے باہر چلے جاتے ہیں۔
یہ صورتحال افریقی وسائل کے مسلسل ضیاع کو ظاہر کرتی ہے، جس کی وجہ سے براعظم کے لیے معاشی خودمختاری حاصل کرنا ایک ناممکن چیلنج بن گیا ہے۔