امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکابندی، دراصل تہران کے خلاف جنگ کے اس مبہم نظریے کو آزمانے کی تازہ ترین کوشش ہے جس کے مطابق امریکی برتری لامحالہ اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا سبب بنے گی۔
مزید پڑھیں
مبصرین کے مطابق اس حکمت عملی کی بنیاد ایک سادہ سے مفروضے پر ہے، یعنی ایران کی تیل کی برآمدات اور ان درآمدات کا گلا گھونٹ دیا جائے جو وہاں کے عوام کی روزمرہ زندگی کا پہیہ چلاتی ہیں۔
واشنگٹن کا خیال ہے کہ ایرانی معاشرہ اندرونی خلفشار کا شکار ہو جائے گا اور نظام پر اس قدر دباؤ بڑھے گا کہ وہ ایٹمی پروگرام سے مستقل دستبرداری کے امریکی مطالبے کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ واشنگٹن کے ایوانوں میں یہ منطق بڑی جاندار معلوم ہوتی ہے۔ چاہے کوئی انتہا پسند مذہبی ریاست ہو یا مغربی جمہوریت، بنیادی ضروریات مثلاً غذا، توانائی اور روزگار تک رسائی ختم ہونے پر کسی بھی ملک کا ڈھانچہ بکھر سکتا ہے۔
جب امریکی حکام تہران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور اشیاء کی قلت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دو ہفتوں سے جاری یہ ناکابندی رنگ لا رہی ہے۔
بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ناکابندی ایک شاہکار چال ہے۔ ان کی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے، بلکہ یوں کہیں کہ وہ دم توڑ چکی ہے۔
صدر ٹرمپ اپنی اس اسکیم سے اس قدر متاثر ہیں کہ انہوں نے اپنے معاونین کو ناکابندی مزید طویل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اس حکمت عملی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کسی زمینی کارروائی یا جانی نقصان کے بغیر ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری اہم وجہ اس امریکی معاشی برتری کو بحال کرنا ہے جو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے عالمی بحران سے متاثر ہوئی تھی۔
اگرچہ امریکی معیشت ایرانی معیشت کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور ہے، لیکن ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ صرف فوجی یا معاشی برتری ہی فتح کی ضمانت نہیں ہوتی۔
تبصرہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کی اس خوش فہمی کو اب دو اہم سوالات کا سامنا ہے:
- داخلی دباؤ: ٹرمپ، ان کے ریپبلکن ساتھی اور امریکی عوام اس جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت کب تک برداشت کریں گے؟ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں 4 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور مہنگائی کا گراف اوپر جا رہا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے ووٹرز پہلے ہی گرتی ہوئی معیشت پر نالاں ہیں۔
- انٹیلی جنس کا معیار: کیا یہ منصوبہ ایران کے زمینی حقائق کے درست ادراک پر مبنی ہے؟ واشنگٹن میں یہ ایک پرانی روش رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے معاشروں کو امریکی منطق کے ترازو میں تولا جاتا ہے، جبکہ وہ معاشرے امریکی صدور کی توقعات کے برعکس ردعمل دیتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا ’جُوا‘ یہ ہے کہ ایران کی قیادت معاشی دباؤ میں آکر ویسا ہی ردعمل دے گی جیسا کہ وہ خود اپنی جگہ پر دیتے، لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ان کا مقابلہ ایک ایسے نظریاتی نظام سے ہے جو اپنے عوام کو سختیاں جھیلنے کا عادی بنا چکا ہے۔
ایران میں سنگین بحران
شواہد بتاتے ہیں کہ ایرانی معیشت واقعی بدترین دور سے گزر رہی ہے۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کے مطابق اس جنگ نے ایران میں لاکھوں افراد کو بے روزگار کر دیا ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور انٹرنیٹ کی بندش نے ڈیجیٹل معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر تیل نے بھی عوام کو توانائی کے استعمال میں کمی کی تنبیہ کی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے نے وائٹ ہاؤس کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ ہے کہ ایرانی معیشت اب ہفتوں نہیں بلکہ محض چند دنوں کی مہمان ہے۔
ٹرمپ کا بارہا یہ دعویٰ کرنا کہ ایران تیل برآمد نہ کرنے کی وجہ سے اپنی پیداوار بند کرنے پر مجبور ہو جائے گا، جس سے اس کی تیل کی تنصیبات کو طویل مدتی نقصان پہنچے گا، اسی سوچ کا عکاس ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی تباہی کو سیاسی تبدیلی میں بدلنے کے لیے جس عوامی تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے، وہ فی الحال ایران میں نظر نہیں آتی۔
دوسری جانب ٹرمپ کی اپنی مقبولیت تاریخی طور پر کم ترین سطح پر ہے اور نومبر کے انتخابات میں ریپبلکنز کو کانگریس میں اپنی برتری بچانے کی فکر لاحق ہے۔
ایران جتنی دیر تک آبنائے ہرمز بند رکھے گا، امریکہ کے لیے سیاسی و معاشی نقصان اتنا ہی بڑھے گا۔
ناکابندی ناکام کیوں ہو سکتی ہے؟
اگر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنائے جانے اور ہفتوں کی بمباری ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکی، تو یہ ماننے کی کیا وجہ ہے کہ معاشی بحران یہ کام کر دکھائے گا؟
ایرانی نظام کی مزاحمت کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے۔ اس نے عراق کے خلاف 8 سالہ خونی جنگ لڑی اور ہر بار عوامی احتجاج کو آہنی ہاتھوں سے کچل کر اپنی بقا کو یقینی بنایا۔
اس نظام کا خمیر ہی ’بڑے شیطان‘ (امریکہ) کے خلاف مزاحمت سے اٹھا ہے۔ وہ ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے معاشی تباہی کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
’کوئنسی انسٹی ٹیوٹ‘ کے تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح اسی غلط فہمی کا شکار ہے کہ دباؤ کے ذریعے ایران کو سرتسلیم خم پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ واشنگٹن ہمیشہ کسی ایسے ’جادوئی حل‘ کی تلاش میں رہتا ہے جو ایرانیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے، لیکن ہر بار اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگر ایران واقعی ہار مان لیتا ہے تو ٹرمپ نصف صدی سے جاری اس تنازع کو ختم کر کے تاریخ رقم کر دیں گے۔
لیکن اگر ٹرمپ ناکام رہے تو یہ ایک بار پھر ثابت ہو جائے گا کہ تہران کی سکت اور برداشت کی قوت امریکہ کی بے پناہ طاقت کو بے اثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔