اہم خبریں
6 May, 2026
--:--:--

سائنسی دنیا میں اہم پیشرفت:مونگ پھلی کے چھلکوں سے توانائی کا حصول

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
مونگ پھلی کے چھلکے اور لیبارٹری میں مونگ پھلی کے چھلکوں سے توانائی (گریفین) کی تیاری کا عمل
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ماہرینِ سائنس نے مونگ پھلی کے چھلکوں کو کاربن پر مبنی ’گریفین‘ میں تبدیل کرنے کا عملی اور حیران کن طریقہ دریافت کر لیا ہے۔

مزید پڑھیں

اس پیش رفت سے دنیا بھر میں سالانہ ضائع ہونے والے لاکھوں ٹن فضلے (چھلکوں) کو انسانی فلاح اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے مفید بنایا جا سکے گا۔

گریفین کی اہمیت اور صنعتی چیلنجز

گریفین ایک انتہائی طاقتور، ہلکا اور حرارت و بجلی کا بہترین موصل مادہ ہے، جسے اکثر ’معجزاتی مادہ‘ کہا جاتا ہے۔ 

یہ مستقبل کے الیکٹرانکس میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، تاہم اس کی تیاری کے موجودہ طریقے انتہائی مہنگے اور پیچیدہ ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر پیداوار ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔

تحقیقی ٹیم اور نیا طریقہ کار

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز (UNSW) کے ماہرین کی ٹیم نے یہ تحقیق کی ہے۔

انجینئر غوان یوہ کے مطابق مونگ پھلی کے چھلکوں کو بغیر کسی کیمیائی مادے کے استعمال کیے اعلیٰ معیار کے گریفین میں تبدیل کیا گیا ہے، جس میں روایتی طریقوں کی نسبت بہت کم توانائی صرف ہوتی ہے۔

مونگ پھلی کے چھلکے اور لیبارٹری میں مونگ پھلی کے چھلکوں سے توانائی (گریفین) کی تیاری کا عمل
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عملِ تیاری اور تکنیکی باریکی

اس عمل کی بنیاد پودوں میں موجود ’لگنین‘ نامی پولیمر ہے، جو کاربن سے بھرپور ہوتا ہے۔

ماہرین نے چھلکوں کو پہلے 5 منٹ تک 500 ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم کر کے کوئلے میں تبدیل کیا اور پھر ’فلیش ہیٹنگ‘ کے ذریعے 3000 ڈگری سینٹی گریڈ کا جھٹکا دیا، جس سے کاربن ایٹم گریفین کی شکل اختیار کر گئے۔

آئندہ کا لائحہ عمل اور تجارتی امکانات

تحقیقی ٹیم کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو تجارتی سطح پر لانے میں 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں۔ فی الحال گریفین کی تہیں غیر منظم ہیں جنہیں مزید بہتر کیا جائے گا۔

مستقبل میں کافی کی باقیات اور کیلوں کے چھلکوں پر بھی تجربات کیے جائیں گے تاکہ بائیو ماس کا موثر استعمال ہو سکے۔

ماحولیاتی اور معاشی اثرات

یہ پیش رفت توانائی کے نظام اور ڈیٹا اسٹوریج جیسی ٹیکنالوجیز میں انقلابی ثابت ہوگی۔

مونگ پھلی کے چھلکوں جیسے زرعی فضلے کو قیمتی مواد میں بدلنا نہ صرف معاشی طور پر سودمند ہے بلکہ یہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ضائع شدہ وسائل کو کارآمد بنانے کا ایک بہترین نمونہ بھی ہے۔