سعودی عرب کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ڈیجیٹل اصلاحات کے بعد ایک نئے اور مستحکم دور میں داخل ہو چکا ہے۔
مزید پڑھیں
جنرل رئیل اسٹیٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مملکت بھر میں مارکیٹ کو شفاف، منظم اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
اس پیش رفت کے بعد اب تک مجموعی طور پر 45 لاکھ سے زائد پراپرٹیز کا اندراج ہو چکا ہے، جس میں 12 لاکھ سے زائد ملکیتی اور 32 لاکھ سے زائد کرایہ نامے شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق رئیل اسٹیٹ رجسٹریشن کے نظام کے تحت اب تک 12 لاکھ سے زائد ملکیتی دستاویزات جاری کی جا چکی ہیں۔ یہ پیش رفت مارکیٹ میں ڈیٹا کی درستی اور جائیدادوں کی واضح ملکیت کے لیے ایک مضبوط اور مستند بنیاد فراہم کرتی ہے۔
کرایہ داری اور بروکرز کا منظم نظام
مملکت میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو منظم کرنے کے لیے 1 لاکھ 6 ہزار سے زائد لائسنس یافتہ بروکرز اور پروفیشنلز خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے اب تک 4 لاکھ 70 ہزار سے زائد لین دین مکمل کیے ہیں، جبکہ ’ایجار‘ پلیٹ فارم کے ذریعے 32 لاکھ سے زائد کرایہ نامے کامیابی سے رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔
مارکیٹ میں استحکام اور قیمتوں کا رجحان
اتھارٹی کے مطابق 2025 کے دوران رئیل اسٹیٹ قیمتوں کے انڈیکس میں معمولی یعنی 0.7 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ مارکیٹ اب متوازن بنیادوں پر استوار ہو رہی ہے، جہاں سرمایہ کاروں کو شفاف ڈیٹا کی بدولت طویل مدتی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی اور جدت
سعودی رئیل اسٹیٹ سیکٹر اب ٹیکنالوجی کی طرف بھی گامزن ہے۔
وژن 2030 کے تحت ریگولیٹری ماحول کو بہتر بناتے ہوئے 60 سے زائد کاروباری افراد کو خوش آمدید کہا گیا ہے، جبکہ گزشتہ 4 ماہ کے دوران 7 رئیل اسٹیٹ ٹیک کمپنیوں کو مقامی سطح پر متعارف کرایا گیا ہے تاکہ عالمی معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔
وژن 2030 اور مستقبل
یہ تمام پیش رفت سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔
ڈیٹا کی درستی، ضابطہ اخلاق کی پابندی اور ڈیجیٹل جدت نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے، جس سے امید ہے کہ سعودی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ مستقبل میں مزید پائیدار اور شفاف نمو کی راہ پر گامزن رہے گی۔