دنیا بھر میں کافی کا استعمال معمول کی بات ہے، مگر اس کے ضائع ہونے والے اربوں ٹن ذرات ماحولیاتی مسائل پیدا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
جنوبی کوریائی سائنسدانوں نے کافی کی باقیات کا ایک ایسا حیران کن حل تلاش کیا ہے جو تعمیراتی شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔
سائنسی جریدے ’سائنس الرٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کی جیونبوک نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین نے کافی کے ویسٹ سے موثر ’تھرمل انسولیشن‘ یعنی حرارت کو روکنے والا مواد بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
یہ ایجاد تعمیراتی صنعت میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
پائیداری اور ماحول دوستی
جیونبوک نیشنل یونیورسٹی کے میٹریل انجینئر سیونگ یون کِم کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کافی کے باقیات کا بڑا حصہ کوڑے کے ڈھیر یا جلانے کے کام آتا ہے۔
نئی تحقیق سے اس فضلے کو اعلیٰ معیار کے پائیدار تعمیراتی مواد میں بدلنا ممکن ہو گیا ہے۔
عالمی سطح پر کافی کا فضلہ
دنیا میں ہر روز تقریباً 2.25 ارب کپ کافی پی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں کثیر مقدار میں ویسٹ پیدا ہوتا ہے۔
یہ فضلہ زمین یا سیوریج میں پھینکنے کے بجائے اب سائنسدان اسے کنکریٹ، سڑکوں کے فرش اور دواسازی کے اجزاء بنانے میں استعمال کر رہے ہیں۔
مواد کی تیاری کا عمل
تحقیقی ٹیم نے کافی کی باقیات کو پہلے 80 ڈگری سینٹی گریڈ پر ایک ہفتہ سُکھایا۔ پھر اسے اونچے درجہ حرارت پر پکا کر ’بائیو چار‘ تیار کیا۔
اس کے بعد اسے ماحول دوست سالوینٹس اور ایتھائل سیلولوز کے ساتھ ملا کر ایک خاص کمپوزٹ مواد بنایا گیا۔
حرارت روکنے کی صلاحیت
اس مواد میں موجود باریک مسام ہوا کو قید کر لیتے ہیں جو بہترین انسولیشن کا کام کرتی ہے۔
تجربات میں اس مواد کی تھرمل کنڈکٹیوٹی 0.04 واٹ فی میٹر فی کیلون رہی، جو کمرشل سطح پر استعمال ہونے والے بہترین پولی اسٹیرین کے معیار کے برابر ہے۔
لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج
سائنسدانوں نے اس مواد کو سولر سیل کے نیچے رکھ کر ٹیسٹ کیا تاکہ عمارتوں کی چھتوں پر گرمی کے اثرات کو جانچا جا سکے۔
نتائج سے واضح ہوا کہ یہ نئی ایجاد گرمی کو روکنے میں انتہائی موثر ہے اور تجارتی مواد کا بہترین متبادل ثابت ہو سکتی ہے۔
کافی سے تیار کردہ یہ انسولیشن میٹریل نہ صرف قابل تجدید ہے بلکہ ماحول دوست بھی ہے۔
یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کوڑے کرکٹ کو سائنسی بنیادوں پر ری سائیکل کر کے تعمیراتی اخراجات کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں مدد لی جا سکتی ہے۔