سرد جنگ کے دور کا ایک بھیانک اور خاموش ورثہ ناروے اور کارا سمندر کی گہرائیوں میں دفن ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برسوں تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ 1600 میٹر کی گہرائی، شدید سردی اور دباؤ جوہری تابکاری کے خطرات کو ختم کر دیں گے، مگر اب یہ مفروضہ غلط ثابت ہو رہا ہے۔
آبدوزوں کا ملبہ اور تابکاری کا پھیلاؤ
سوویت دور کی آبدوز ’کے-278‘ (کومسومولیتس) 1989 میں غرق ہوئی تھی۔ حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ اس کے قریب ’سیزیئم-137‘
کی سطح معمول سے 8 لاکھ گنا زیادہ ہے۔
یہ تابکاری اب سمندری حیات کے ذریعے انسانی خوراک تک پہنچ رہی ہے۔
تابکاری کا خلیجی سفر اور سمندری حیات
ماہرین کے مطابق تابکاری سمندر کی تہہ تک محدود نہیں رہتی۔ پلانکٹن (سمندری حیوانات و نباتات) ان ذرات کو جذب کرتے ہیں، جنہیں چھوٹی مچھلیاں کھاتی ہیں۔
اس عمل سے تابکاری کا ارتکاز بڑھتا جاتا ہے اور پھر کوڈ اور ٹونا جیسی بڑی مچھلیوں کے ذریعے یہ زہریلا مواد ہماری میزوں تک پہنچ جاتا ہے، جو صحت کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
جوہری کچرے کا ’خفیہ انبار’
1991 کے بعد روسی جوہری بیڑے کی تباہ حالی کے باعث آرکٹک کو جوہری کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق 17 ہزار سے زائد تابکار کنٹینرز، 19 بحری جہاز اور 14 جوہری ری ایکٹر جان بوجھ کر سمندر میں پھینکے گئے، جو اب سنگین ماحولیاتی بحران بن چکے ہیں۔
2040 کا حساس ٹائم بم
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2040 سے 2060 کے درمیان یہ پرانے ڈھانچے مکمل طور پر بوسیدہ ہو کر ٹوٹ جائیں گے۔
اس صورت میں ان کے اندر موجود تمام زہریلا اور تابکار مواد سمندر میں خارج ہو جائے گا، جس کے اثرات کئی نسلوں تک انسانی اور آبی حیات کو متاثر کریں گے۔
معیشت اور ماہی گیری کے لیے خطرات
اس بحران کے معاشی اثرات بھی گہرے ہیں۔ شمالی بحر اوقیانوس کی ماہی گیری کی صنعت اربوں یورو کی حامل ہے۔ اگر صارفین میں ’تابکار مچھلی‘ کا خوف پھیلا تو یہ انڈسٹری تباہ ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 6 خطرناک ترین جہازوں کو نکالنے پر 300 ملین ڈالر تک کی لاگت آئے گی، جس پر اب بھی خاموشی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قطب شمالی میں پگھلتی ہوئی برف اور بدلتے ہوئے سمندری دھارے اس جوہری ملبے کو مزید غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کا عدم مداخلت کا رویہ مستقبل میں ماحولیاتی اور معاشی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ فوری حکمت عملی اختیار کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔