اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ فی الحال جاری نہیں لیکن مبصرین کے مطابق موجودہ صورت حال کو مکمل پُرامن بھی نہیں کہا جا سکتا۔
مزید پڑھیں
جدہ میں ہونے والی حالیہ مشاورتی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی بھی موجود ہے اور اقتصادی و سیکیورٹی چیلنجز سے پورا خطہ نبرد آزما ہے۔
پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پیشرفت کسی حتمی نتیجے تک جائے گی یا یہ محض ایک طویل بحران کو وقتی طور پر سنبھالنے کی کوشش ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے خطے سمیت دنیا بھر کی سیکیورٹی کے اطمینان پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
ان حملوں نے ایرانی دفاعی ڈھانچے، بحری تنصیبات اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن دوسری جانب اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ سمیت دیگر ممالک بدترین معاشی بحران کا نشانہ بن چکے ہیں۔
اس پوری صورت حال میں جنگ کا اصل بتایا گیا مقصد یعنی ایرانی نظام کا سیاسی وجود ختم نہیں کیا جا سکا، یہاں تک کہ ایران میں حکمرانی کو کوئی خاطر خواہ دھچکا بھی نہیں لگا۔
یہ حالات ثابت کرتے ہیں کہ فوجی طاقت کے ذریعے کسی ملک کے سیاسی نظام کو حتمی شکست دینا انتہائی مشکل ہے۔
اس جنگ نے بتایا ہے کہ ایران کو کمزور پوزیشن میں لانے کا خواب ایک سراب ہی رہا، جس کے نتیجے میں فریقین کو اب جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز کی جانب دیکھنا پڑ رہا ہے۔
ایرانی نظام کی بقا اب روایتی انداز میں نہیں بلکہ ایک پیچیدہ شکل اختیار کر چکی ہے۔
اگرچہ تہران کی فوجی صلاحیتوں میں کمی آئی ہے، لیکن اس کے پاس اب بھی پراکسی نیٹ ورکس، آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے تزویراتی مقامات پر اثر و رسوخ موجود ہے، جس سے وہ خطے کے استحکام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس صورتحال میں امریکہ حتمی شکست دینے میں ناکامی کے بعد دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کررہا ہے۔
موجودہ حالات میں خلیجی ممالک کے لیے روایتی ردِ عمل کا تصور بھی تبدیل ہو چکا ہے۔
اب مکمل جنگ کے بجائے ایسے دفاعی حصار کی ضرورت درپیش ہے جو ایران کے محدود حملوں کی سیاسی و اقتصادی اہمیت کو ختم کر سکے۔ اس کے لیے جدید فضائی دفاعی نظام اور اہم تنصیبات کی فول پروف حفاظت ناگزیر ہے۔
خلیجی ممالک کو اپنی معیشت کے استحکام، توانائی کی فراہمی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے طویل المدتی بنیادوں پر ایران کے دباؤ کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔
مستقبل کے چیلنجز بھی خلیجی ممالک کو اپنے سیکیورٹی ماڈل پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
اب مکمل طور پر بیرونی تحفظ پر انحصار کے بجائے خود مختار دفاع کی جانب بڑھنا ضروری ہے۔ جنوبی کوریا کی طرز پر مقامی عسکری صنعتوں کا قیام اور اسٹریٹجک تھنک ٹینکس میں سرمایہ کاری اس عمل کا اہم حصہ ہے۔
حالات کی یہ کروٹ اس حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ قومی سلامتی اب صرف سرحدوں کے دفاع کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں اقتصادی، سماجی اور ڈیجیٹل سلامتی کو یکجا کرنا شامل ہے۔
ایک مضبوط خود مختار دفاعی صلاحیت ہی خطے یا ریاستوں کو کسی بھی بڑے بحران سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔
تہران کے طرز عمل کی وجہ سے کشیدگی کے دوران ایران کے ساتھ سیاسی رابطے برقرار رکھنا سفارتی ضرورت نہیں بلکہ تزویراتی مجبوری بن چکا ہے۔
یہ رابطے اعتماد پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ غلط فہمیوں اور غیر ارادی تصادم سے بچنے کے لیے ضروری ہیں۔ ایران اکثر اپنے مخالفین کو تھکانے کی حکمت عملی اپناتا ہے، جس کا جواب حکمت عملی اور نظم و ضبط ہی سے دیا جا سکتا ہے۔
خلیجی ممالک کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کب جواب دینا ہے اور کب اشتعال انگیزی کو نظر انداز کرنا ہے۔
اسی طرح آبنائے ہرمز کی حفاظت بھی اب صرف ایک فوجی معاملہ نہیں بلکہ عالمی معیشت اور خلیجی ریاستوں کے تشخص کا مرکز بن چکی ہے۔