تیونس کے شمالی گورنریٹ منوبہ میں سفیان الکنزاری نے ایک غیر روایتی زرعی منصوبے کی بنیاد رکھی ہے۔
مزید پڑھیں
پہلی نظر میں یہ کسی سبزی کے کھیت سا لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ تیونس میں گھونگھوں کی تجارتی افزائش کا جدید مرکز ہے، جو مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
یہ منصوبہ ’گرے بگ‘ اور ’گرے سمال‘ اقسام پر مشتمل ہے۔ ان کی افزائش کا عمل انڈوں سے شروع ہوتا ہے، جب ان کا وزن صرف 0.04 گرام ہوتا ہے۔
7 ماہ کی محنت کے بعد یہ 17 سے 25 گرام کے ہو جاتے ہیں۔ اس کام کے لیے 17 سے 23 ڈگری درجہ حرارت انتہائی سازگار سمجھا جاتا ہے۔
موسمیاتی اثرات اور دیکھ بھال
گھونگھوں کی پرورش موسمی حالات سے مشروط ہے۔ گرمیوں میں انہیں 4 سے 6 ڈگری درجہ حرارت کے کولڈ رومز میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ سست روی کی کیفیت میں چلے جائیں۔
ستمبر سے ان کی دوبارہ افزائش شروع ہوتی ہے اور انہیں ہری سبزیوں اور خصوصی مرکبات پر مبنی خوراک دی جاتی ہے۔
تیونس کا روایتی ذائقہ
تیونس کے دیہی علاقوں میں یہ گھونگھے طویل عرصے سے کھائے جا رہے ہیں۔
روایتی ترکیب کے مطابق انہیں پہلے کئی بار دھویا جاتا ہے اور پھر جڑی بوٹیوں جیسے روزمیری اور بے لیف کے ساتھ ابالا جاتا ہے۔
آج کل یہ ڈش مقامی ہوٹلوں اور تقریبات میں بھی ایک فینسی آئٹم کے طور پر مقبول ہو رہی ہے۔
انتظامی اور قانونی رکاوٹیں
تیونس میں گھونگھوں کے متعدد فارمز موجود ہیں، مگر زیادہ تر محکمہ زراعت کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ صحت اور ویٹرنری کے سخت ضوابط ہیں۔ یہ عمل کافی پیچیدہ ہے، جس کے باعث بہت سے کسان رسمی نظام سے باہر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
مارکیٹنگ اور برآمدی چیلنجز
گھونگھے پالنے والوں کے سامنے 2 راستے ہیں: یا تو زندہ گھونگھے مقامی ہوٹلوں کو فروخت کریں، یا پھر انہیں پراسیس کر کے گوشت، کاسمیٹکس کے لیے لعاب اور کیلشیم کے ذرائع کے طور پر استعمال کریں۔
تاہم جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی کمی ان منصوبوں کو بڑے پیمانے پر منافع بخش بنانے میں رکاوٹ ہے۔
حکومتی اعداد و شمار اور مستقبل
سینٹرل کوآپریٹو برائے گھونگھا فارمرز کے مطابق تیونس میں صرف 7 فارمرز اس شعبے میں سرگرم ہیں، جن میں سے صرف 4 حکومتی طور پر تسلیم شدہ ہیں۔
2020ء میں یہ تعداد 20 تھی، جس میں کمی کی بنیادی وجہ بینکوں کی جانب سے سرمایہ کاری نہ کرنا اور انتظامی پیچیدگیاں ہیں۔
تیونس میں گھونگھوں کی فارمنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں فرانس، اسپین اور اٹلی جیسی عالمی مارکیٹوں تک رسائی کے روشن امکانات موجود ہیں۔
اگر حکومت انتظامی رکاوٹیں دُور کرے اور مالیاتی ادارے تعاون فراہم کریں تو یہ چھوٹا سا جاندار تیونس کی معیشت کے لیے ایک اہم برآمدی ذریعہ بن سکتا ہے۔