امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کی سفارتی کوششیں اس وقت جمود کا شکار ہیں۔
مزید پڑھیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جس سے تنازع کے جلد حل کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے تجویز دی ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت جنگ کے خاتمے تک ملتوی کی جائے۔
اُدھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے بدلے
جوہری پروگرام کو نظر انداز کرنا واشنگٹن کے لیے اس کے بنائے ہوئے دباؤ کو کھو دینے کے مترادف ہوگا، جبکہ یہ اس کا اہم ہتھیار ہے۔
ایرانی تجاویز اور امریکی ردعمل
ایران نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے 3 مراحل پر مشتمل منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا آغاز جنگ کے خاتمے اور واشنگٹن و اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے نہ کرنے کی ضمانت سے ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کے عوض اپنی بندرگاہوں کے حوالے سے امریکہ کی عائد کردہ پابندیاں ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
سفارتی سرگرمیاں
حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، عمان اور روس کا دورہ کیا ہے۔ اس دوران تہران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو تحریری پیغامات بھی پہنچائے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران دھمکیوں یا محاصرے کے سائے میں کسی بھی جبری مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔
کیا جنگ دوبارہ شروع ہو گی؟
خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ براہ راست مذاکرات میں تعطل ہے، لیکن دونوں ممالک ایک بڑی جنگ سے گریزاں ہیں۔
ایران اپنی عسکری صلاحیتوں کی بحالی کا خواہشمند ہے، جبکہ امریکہ خلیج میں کسی مہنگی جنگ میں ملوث ہو کر عالمی معیشت اور توانائی کے بحران کو مزید ہوا دینے سے ڈرتا ہے۔
ماضی کا سبق اور مستقبل کے امکانات
ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کا راستہ کبھی سیدھا اور آسان نہیں ہوتا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے میں بھی 2 سال کا عرصہ لگا تھا۔
آج کی صورتحال ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی کیفیت میں ہے، جہاں دونوں فریق اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
موجودہ سفارتی جمود ایک ہنگامی جنگ بندی کی جانب بڑھتا دکھائی دیتا ہے، جو اگرچہ غیر مستحکم ہے، لیکن دونوں ممالک کی اس ضرورت کو پورا کرتا ہے کہ وہ براہِ راست تصادم سے بچیں۔
یہ ’منجمد تنازع‘ اس وقت تک برقرار رہ سکتا ہے جب تک کوئی ایک فریق رعایت دینے پر مجبور نہ ہو جائے۔