اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

امارات کا یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا فیصلہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
متحدہ عرب امارات کا پرچم اور اوپیک کا لوگو، امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا فیصلہ ظاہر کرتی تصویر
سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق یہ فیصلہ یکم مئی 2026 سے مؤثر ہو جائے گا (فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق یہ فیصلہ یکم مئی 2026 سے مؤثر ہو جائے گا۔

اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے طویل مدتی اقتصادی و تزویراتی  وژن اور توانائی کے شعبے میں ترقی کے عزم کا حصہ ہے۔

اس فیصلے کا مقصد مقامی پیداوار میں سرمایہ کاری کو تیز کرنا اور 

عالمی توانائی منڈیوں میں ایک ذمہ دار اور قابل اعتماد سپلائر کے طور پر اپنے کردار کو مستحکم کرنا ہے۔

خیال رہے کہ اوپیک پلس  2016 میں قائم ہونے والا ایک تزویراتی اتحاد ہے جس میں اوپیک کے 12 رکن ممالک اور 11 آزاد تیل پیدا کرنے والے ممالک شامل ہیں۔

اس گروپ کا بنیادی مقصد پیداواری سطح کنٹرول کرتے ہوئے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنا ہے۔

ایران امریکی محاصرہ دھمکی کے بعد آبنائے ہرمز صورتحال
(فوٹو: انٹرنیٹ)

فیصلے کی وجوہات

متحدہ عرب امارات کے بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ یہ فیصلہ ملکی پیداواری پالیسیوں اور موجودہ و مستقبل کی حکمت عملی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق موجودہ جیو پولیٹیکل کشیدگی، خاص طور پر خلیج عرب اور آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔

اسی طرح درمیانی و طویل مدت میں توانائی کی عالمی طلب میں مسلسل اضافے کے رجحانات دیکھے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے  قومی مفاد اور عالمی منڈی کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے پیشِ نظر یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔

یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات 1967 میں (ابوظبی کے ذریعے) اوپیک کا رکن بنا تھا اور 1971 میں ملک کے قیام کے بعد بھی اس کی رکنیت برقرار رہی۔

پیداوار میں بتدریج اضافہ

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اوپیک سے نکلنے کے بعد بھی امارات اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے منڈی کی طلب اور حالات کے مطابق اپنی تیل کی پیداوار میں بتدریج اور متوازن اضافہ جاری رکھے گا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ہمارا ایک خود مختار قومی فیصلہ ہے جو ہماری اسٹریٹجک ترجیحات پر مبنی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پیداواری کوٹے کی پابندیوں سے آزادی کے بعد ہمیں اپنی توانائی کی حکمت عملیوں میں زیادہ لچک حاصل ہوگی۔

تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ

یاد رہے کہ اوپیک پلس نے رواں ماہ 5 اپریل کو مئی کے لیے پیداوار میں 2 لاکھ 6 ہزار بیرل یومیہ اضافے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم جنگ کے باعث دنیا کا سب سے اہم آبی تجارتی راستہ آبنائے ہرمزفروری کے آخر سے عملی طور پر بند ہے، جس نے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے۔

اندازوں کے مطابق اس وقت عالمی منڈی میں یومیہ 12 سے 15 ملین بیرل تیل کی کمی کا سامنا ہے، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 15 فیصد ہے۔ 

جے پی مورگن بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مئی کے وسط تک بحال نہ ہوئی تو عالمی منڈی میں قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اوپیک پلس کے رکن ممالک کا آئندہ اجلاس 3 مئی کو متوقع ہے۔