اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

فیفا ورلڈ کپ 2026: ایران کی جگہ اٹلی؟ فیصلہ زیرِ غور

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ورلڈ کپ 2026 ایران اٹلی
ایران نے میچز امریکہ کے بجائے میکسیکو میں کرانے کی درخواست کی

باوجود اس کے کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پہلے اس امکان کو مسترد کر دیا تھا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی پاؤلو زیمپولی نے ایک بار پھر یہ تنازع چھیڑ دیا کہ آیا اٹلی، ایران کی جگہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شرکت کر سکتا ہے۔

زیمپولی نے آج منگل کو کہا ہے کہ 50 فیصد سے زیادہ امکان ہے کہ اٹلی اس گرمیوں میں امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ایران کی جگہ شریک ہو۔

مزید پڑھیں

انہوں نے اطالوی ریڈیو پروگرام ’سیاست فٹبال میں‘ کے دوران کہا کہ میرا خیال ہے کہ آئندہ ورلڈ کپ میں اٹلی کی شرکت کے امکانات 50 فیصد سے زیادہ ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ وہ جیانی انفانتینو سے میامی میں فارمولا 1 گراں پری کے موقع پر ملاقات کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ اٹلی کے بغیر نہیں ہونا چاہئے، اب فیصلہ 

انفانتینو اور ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔

 سابق ماڈلنگ ایجنٹ نے وضاحت کی کہ یہ خیال انہیں اس وقت آیا جب ایران کی شرکت جنگ کے باعث غیر یقینی نظر آئی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ ایران کی شرکت ابھی تک یقینی نہیں، تو میں نے انفانتینو سے اٹلی کی واپسی کے امکان کے بارے میں پوچھا۔

64654
اٹلی کی شرکت کے 50 فیصد سے زائد امکانات کا دعویٰ

انہوں نے مزید کہا کہ اب ویزا حاصل کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور ہم ایسے افراد کو داخل نہیں ہونے دینا چاہتے جو مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ 

اگر غیر مطلوب افراد کو امریکہ بھیجا جائے تو بہتر ہے کہ وہ نہ آئیں۔

امریکی مؤقف اور غیر یقینی صورتحال

زامبولی نے واضح کیا کہ انہوں نے ابھی تک ٹرمپ سے اس معاملے پر بات نہیں کی اور کہا کہ امریکی صدر نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا ہم ایرانی کھلاڑیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں لیکن مارکو روبیو واضح کر چکے ہیں کہ ایسے افراد کو داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ کے لیے دوستانہ نہیں ہیں۔

اٹلی کے اندر ہی اس تجویز کی مخالفت

آخر میں انہوں نے کہا اگر ایران شریک نہیں ہوتا تو ہمیں معلوم نہیں کہ کیا ہم کسی اور ٹیم کو شامل کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ہر چیز ممکن ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زیمپولی اس کوشش میں تقریباً اکیلے ہیں، کیونکہ اطالوی فٹبال کی کئی اہم شخصیات پہلے ہی ایران کی جگہ لینے کی مخالفت کر چکی ہیں۔
زیمپولی، جو اطالوی نژاد امریکی ہیں اور اس وقت عالمی شراکت داریوں کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے طور پر کام کر رہے ہیں، اکیلے ہی فیفا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اٹلی کو آئندہ ورلڈ کپ میں شامل کیا جائے۔

دوسری جانب، ایرانی ٹیم، جو گروپ جی میں مصر، بیلجیم اور نیوزی لینڈ کے ساتھ شامل ہے، نے فیفا سے درخواست کی تھی کہ اس کے گروپ کے تمام میچز امریکہ کے بجائے میکسیکو میں کروائے جائیں تاہم انفانتینو نے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔