وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ یہ حساس سفارتی معاملات ہیں اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی معاہدہ امریکی عوام کے مفاد میں ہوگا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات فی الحال بالواسطہ طور پر جاری ہیں اور اس وقت تک براہِ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں جب تک دونوں فریق کسی ابتدائی مفاہمت تک نہ پہنچ جائیں۔
ایک باخبر پاکستانی ذریعے نے کہا کہ مسودے پر بات چیت دور سے جاری رہے گی جب تک کسی حد تک اتفاق رائے نہ ہو جائے۔
امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ترک کرے اور مزید افزودگی سے باز رہے کیونکہ یہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ضروری قدم سمجھا جاتا ہے۔
اگرچہ جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی رک چکی ہے، جو 28 فروری کو امریکی اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی تاہم جنگ کے خاتمے کی شرائط پر ابھی تک اتفاق نہیں ہو سکا۔
اس جنگ نے ہزاروں جانیں لیں، تیل کی قیمتیں بڑھائیں، مہنگائی میں اضافہ کیا اور عالمی اقتصادی نمو کو متاثر کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کی معاشی برداشت کا امتحان لے رہے ہیں تاکہ یہ طے ہو سکے کہ کون پہلے رعایت دینے پر آمادہ ہوتا ہے۔
جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند رکھا ہوا ہے، سوائے ان جہازوں کے جو اس کے اپنے استعمال کے لیے گزر رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ نے اس ماہ ایرانی جہازوں پر بحری پابندیوں کا آغاز کیا ہے جبکہ تہران ان پابندیوں کے خاتمے کو مذاکرات کے لیے بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔