اہم خبریں
9 May, 2026
--:--:--

پس پردہ مذاکرات بھی، تصادم کا خطرہ بھی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران کشیدگی
امریکہ کا مؤقف سخت: جوہری مسئلہ پہلے حل کیے بغیر کوئی ڈیل نہیں

پاکستانی ذرائع نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کم کرنے کی کوششیں تاحال جاری ہیں حالانکہ براہِ راست مذاکرات کا انعقاد تعطل کا شکار ہو گیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایلچیوں کا دورہ اسلام آباد منسوخ کر دیا اور کہا کہ اگر ایران معاہدہ چاہتا ہے تو وہ خود واشنگٹن سے رابطہ کرے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنا ہے تاہم امکان ہے کہ یہ تجویز واشنگٹن کو قابل قبول نہ ہو کیونکہ امریکہ ابتدا ہی سے جوہری معاملات کے حل پر زور دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں

ہفتے کے روز امن کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ٹرمپ نے اپنے نمائندے وٹکوف اور داماد جارید کشنر کا اسلام آباد کا دورہ منسوخ کر دیا، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے آغاز میں دو بار دورہ کیا تھا۔ 

عراقچی نے اسی دوران سلطنت عمان کا بھی دورہ کیا اور پھر روس پہنچ کر صدر ولادیمر پوٹن سے ملاقات کی۔

دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کے حقوق جیسے معاملات پر۔ 

اسی تناظر میں پیر کے روز عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

ٹرمپ نے فوکس نیوز میں کہا ہے کہ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آئیں یا ہمیں فون کریں، ہمارے پاس محفوظ رابطے موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو معلوم ہے کہ معاہدے میں کیا شامل ہونا چاہئے اور واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مذاکرات فی الحال بالواسطہ جاری، براہِ راست ملاقات کا کوئی فوری امکان نہیں

ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کی تجویز مرحلہ وار مذاکرات پر مبنی ہے، جس میں ابتدائی مرحلے میں جوہری مسئلہ شامل نہیں ہوگا۔
پہلے مرحلے میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جاری جنگ کا خاتمہ اور یہ ضمانت شامل ہے کہ اسے دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
اس کے بعد ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کے مستقبل پر بات ہوگی، جسے ایران کھولنے اور اپنے کنٹرول میں رکھنے کا خواہاں ہے۔
بعد کے مراحل میں دیگر مسائل، بشمول ایران کے جوہری پروگرام پر دیرینہ تنازع، زیر بحث آئیں گے۔ تہران بدستور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کیا جائے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ یہ حساس سفارتی معاملات ہیں اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی معاہدہ امریکی عوام کے مفاد میں ہوگا اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ChatGPT Image 27 أبريل 2026، 09 02 22 م
امریکا نے جوہری پروگرام کو نظر انداز کرنے پر تحفظات ظاہر کیے

پاکستانی حکام کے مطابق مذاکرات فی الحال بالواسطہ طور پر جاری ہیں اور اس وقت تک براہِ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں جب تک دونوں فریق کسی ابتدائی مفاہمت تک نہ پہنچ جائیں۔ 

ایک باخبر پاکستانی ذریعے نے کہا کہ مسودے پر بات چیت دور سے جاری رہے گی جب تک کسی حد تک اتفاق رائے نہ ہو جائے۔

امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر ترک کرے اور مزید افزودگی سے باز رہے کیونکہ یہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ضروری قدم سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی رک چکی ہے، جو 28 فروری کو امریکی اسرائیلی حملوں سے شروع ہوئی تھی تاہم جنگ کے خاتمے کی شرائط پر ابھی تک اتفاق نہیں ہو سکا۔ 

اس جنگ نے ہزاروں جانیں لیں، تیل کی قیمتیں بڑھائیں، مہنگائی میں اضافہ کیا اور عالمی اقتصادی نمو کو متاثر کیا۔

645464
تیل کی قیمتیں اُڑان پر: ہرمز بحران نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا

تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کی معاشی برداشت کا امتحان لے رہے ہیں تاکہ یہ طے ہو سکے کہ کون پہلے رعایت دینے پر آمادہ ہوتا ہے۔

جنگ کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند رکھا ہوا ہے، سوائے ان جہازوں کے جو اس کے اپنے استعمال کے لیے گزر رہے ہیں۔ 

دوسری جانب امریکہ نے اس ماہ ایرانی جہازوں پر بحری پابندیوں کا آغاز کیا ہے جبکہ تہران ان پابندیوں کے خاتمے کو مذاکرات کے لیے بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔