اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

ایران تنازع: خلیجی شراکت داروں کی شمولیت کسی بھی تصفیے میں ناگزیر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران تنازع خلیجی ممالک کردار
ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 مئی 2025 کو ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے دوران خلیجی رہنماؤں کے ساتھ (فوٹو: ایکس)

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی میں عارضی جنگ بندی کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔

مزید پڑھیں

پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے دوران واشنگٹن کی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ خطے میں امن کے لیے خلیجی ممالک کی شمولیت کو ایک اہم ضرورت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سیاست میں ابہام اور سفارتکاری کا بڑھتا رجحان

امریکی صدر صدر ٹرمپ نے ایران کو اپنے موقف کو بہتر بنانے کے لیے مزید مہلت دی ہے۔

ایک طرف امریکہ نے خطے میں اپنا تیسرا طیارہ بردار بحری گروپ تعینات کررکھا ہے تو دوسری جانب ٹرمپ خود ایران کے ساتھ ’بہترین ڈیل‘ کرنے کا عندیہ بھی دے رہے ہیں۔

واشنگٹن کی موجودہ پالیسی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ سے نکل کر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جسے ’انتہائی غیر یقینی‘ کہا جا سکتا ہے۔ 

تاہم عسکری جارحیت کے مقابلے میں سفارتکاری کو ترجیح دینا اس وقت امریکی ترجیحات میں نمایاں ہے۔

ایران تنازع خلیجی ممالک کردار
دوحہ: 15 ستمبر 2025 کو اسرائیلی حملے پر تبادلہ خیال کے لیے عرب اسلامی ہنگامی سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنما اور سربراہان مملکت (فوٹو: ایکس)

لبنان اور اسرائیل: امریکی موقف میں تبدیلی

اسرائیل اور لبنان کے مابین بھی جنگ بندی کو مزید 3 ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔

یہ مذاکرات اب وزارت خارجہ سے نکل کر براہ راست وائٹ ہاؤس کے زیر نگرانی ہو رہے ہیں۔ اگرچہ سفارتکاری پر زور دیا جا رہا ہے، لیکن ٹرمپ کے غیر متوقع فیصلوں کے باعث کسی بھی وقت عسکری کشیدگی کا خدشہ بدستور موجود ہے۔

عرب شراکت داروں کی اہمیت اور خدشات

امریکی سفارتکاری میں خلیجی ممالک کی مستحکم شمولیت کی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔

واشنگٹن نے اب تک خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعاون کو محض دفاعی حکمت عملی تک محدود رکھا ہے، جبکہ خطے کے حتمی تزویراتی مقاصد کے تعین میں ان کا کردار ثانوی رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان، ترکی اور مصر مذاکرات میں معاون کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم خلیجی ممالک ایران کے ساتھ براہ راست ثالث کا کردار ادا کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ 

ان ممالک کو ایران کے حملوں سے جو مادی نقصان پہنچا ہے، اس نے اعتماد کی فضا کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔

جغرافیائی اثرات اور معاشی نقصانات

خلیجی ممالک جنگ کی وجہ سے معاشی طور پر شدید متاثر ہوئے ہیں۔

متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے خطے کی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ 

یہ تمام ممالک واشنگٹن اور اسرائیل کے برعکس کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی مستقل تصفیے کے لیے خلیجی ممالک کا شامل ہونا ناگزیر ہے۔ 

یاد رہے کہ اکتوبر 2025 میں غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی میں ٹرمپ کی کامیابی کا اہم راز عرب ریاستوں ہی کے ساتھ قریبی تعاون تھا۔ 

ایران تنازع خلیجی ممالک کردار
اسلام آباد مذاکرات کے بے نتیجہ رہنے کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پریس کانفرنس کررہے ہیں (فوٹو: ایکس)

علاقائی امن کا نیا چارٹر

مارچ 2023 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی نے ثابت کیا تھا کہ علاقائی ممالک کے مابین بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔

ستمبر 2025 میں دوحہ میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں ایران کی شرکت اس بات کی علامت تھی کہ تہران اور اس کے عرب پڑوسیوں کے مابین رابطے برقرار ہیں۔

ماضی میں امریکی انتظامیہ جوہری مذاکرات میں خطے کے ممالک کو براہ راست شامل کرنے سے گریز کرتی رہی ہے، تاہم 2026 کی ایران جنگ نے زمینی حقائق بدل دیے ہیں۔ 

اب صرف جوہری پروگرام نہیں بلکہ ایک ایسے علاقائی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں عدم جارحیت کو مرکزیت حاصل ہو۔

مستقبل کے تناظر میں خطے کے ممالک کا ایران کے ساتھ طویل مدتی بقائے باہمی کا تعلق ناگزیر ہے۔ 

واشنگٹن کے لیے ضروری ہے کہ وہ تہران کے ساتھ تصفیے کے عمل میں خلیجی ریاستوں کو میز پر جگہ دے، تاکہ کسی بھی متوقع سمجھوتے کو طویل مدتی پائیداری حاصل ہو سکے۔