آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی جنگ کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر کی اس سطح تک نہیں پہنچ سکی، جس کی پیش گوئی کئی ماہرین کر رہے تھے۔
مزید پڑھیں
اس کے برعکس قیمتیں ایک محدود دائرے میں رہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں شدید دھچکے کو جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔
پہنچا، تاہم کشیدگی میں کمی کے وقفوں کے دوران یہ 90 ڈالر سے نیچے بھی آیا، جبکہ اس کی اوسط قیمت تقریباً 100 ڈالر کے گرد گھومتی رہی۔
اس کے برعکس عرب لائٹ آئل کی قیمت 140 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
توقعات اور خدشات
جنگ کے آغاز ہی سے تجزیہ کاروں اور کمپنیوں نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے تھے۔
’کموڈیٹی کانٹیکسٹ‘ کے بانی روری جانسٹن سمیت کئی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش قیمتوں کو 200 ڈالر سے اوپر لے جا سکتی ہے۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘نے ’ووڈ میکینزی‘ کے تجزیہ کاروں کے حوالے سے لکھا تھا کہ 2026ء میں 200 ڈالر کی سطح کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ ’جے پی مورگن‘ نے بھی سپلائی میں شدید تعطل کی صورت میں ایسی ہی پیش گوئی کی تھی۔
قیمتیں قابو میں کیسے رہیں؟
ماہرین کے مطابق مندرجہ ذیل 6 بنیادی وجوہات نے قیمتوں کو بے قابو ہونے سے روکے رکھا:
1۔ اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال: بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کیا۔
اس کے علاوہ چین، جاپان اور دیگر بڑے ممالک نے بھی اپنے ذخائر سے تیل مارکیٹ میں پہنچایا، جس نے ابتدائی ہفتوں میں ایک حفاظتی ڈھال کا کام کیا۔
2۔ روسی سپلائی: امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں جزوی نرمی کے بعد روسی تیل کی مارکیٹ میں واپسی نے سپلائی کے خلا کو پُر کرنے میں مدد دی۔
3۔ ایرانی لچک: ایران نے ’شیڈو فلیٹ‘ (خفیہ ٹینکرز) کے ذریعے اپنی برآمدات کا سلسلہ جاری رکھا۔ رپورٹس کے مطابق اپریل کے وسط میں بھی لاکھوں بیرل ایرانی خام تیل آبنائے ہرمز سے گزر کر مارکیٹ تک پہنچا۔
4۔ متبادل راستے: سعودی عرب کی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن اور کرکوک-جیہان پائپ لائن جیسے متبادل راستوں نے ہرمز کی بندش کے اثرات کو محدود کیا۔
اسی طرح چین نے کوئلے سے گیس بنانے کے منصوبوں پر بھی کام تیز کر دیا ہے۔
5۔ طلب میں کمی: بڑھتی قیمتوں کے نتیجے میں عالمی اقتصادی سرگرمیوں میں سست روی اور پروازوں کی منسوخی جیسے عوامل نے تیل کی طلب کو کم کیا، جس سے مارکیٹ میں توازن پیدا کرنے میں مدد ملی۔
6۔ سیاسی بیانات کا اثر: مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے دوران سیاسی قیادت، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ایک ’توازن کار‘ کا کردار ادا کیا۔
صلح یا مذاکرات کے ہر اشارے پر قیمتیں نیچے آئیں، جس سے کسی بھی شدید اضافے کو روکنے میں مدد ملی۔
مستقبل کے منظرنامے
کویت کے سابق وزیر خزانہ کے مشیر محمد رمضان کا کہنا ہے کہ ذخائر کا اجراء اور پابندیوں میں نرمی وقتی حل ہیں، مستقل نہیں۔
دوسری جانب ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر جنگ طویل ہوئی اور ذخائر ختم ہونے لگے تو قیمتیں دوبارہ 150 ڈالر کی جانب بڑھ سکتی ہیں۔
تجزیہ کار عمرو الشوبکی کے مطابق دنیا کو اب طویل مدتی پیداواری سرپلس کی ضرورت ہے۔ خدشہ ہے کہ تیل کی بلند قیمتیں اگلے 2 سے 3 سال تک عالمی معیشت کا پیچھا کرتی رہیں گی۔