خبر رساں ادارے رائٹرز اور اپسوس کے حالیہ سروے کے مطابق امریکیوں کی اکثریت پیدائشی شہریت کے قانون کی حمایت کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تیزی سے بڑھتا ہوا یہ عوامی رجحان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بالکل برعکس ہے۔
سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ 64 فیصد امریکی پیدائشی حقِ شہریت ختم کرنے کے خلاف ہیں۔ صرف 32 فیصد افراد صدر ٹرمپ کے جنوری 2025 کے ایگزیکٹو آرڈر کی حمایت کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کے اس حکم نامے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا
ہے جس کا فیصلہ جون میں متوقع ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر کی سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔
سروے کے مطابق پیدائشی شہریت کے معاملے پر امریکی رائے عامہ سیاسی بنیادوں پر تقسیم نظر آتی ہے۔ صرف 9 فیصد ڈیموکریٹس اس قانون کے خاتمے کے حق میں ہیں جبکہ 62 فیصد ریپبلکن اس کی حمایت کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی سپریم کورٹ آنے والے ہفتوں میں مائیگریشن، ٹرانس جینڈر حقوق اور انتخابی قواعد پر اہم فیصلے سنائے گی۔ یہ فیصلے نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات پر اثر انداز ہوں گے۔
عدالت کی جانب سے ٹرانس جینڈر افراد کی خواتین کے کھیلوں میں شرکت پر پابندی کا بھی امکان ہے۔ سروے میں 67 فیصد امریکیوں نے اس پابندی کی حمایت کی ہے۔
ریپبلکنز میں اس پابندی کی حمایت 92 فیصد ہے جبکہ 44 فیصد ڈیموکریٹس بھی اس کے حق میں ہیں۔ یہ موضوع امریکہ میں ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
علاوہ ازیں ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے بیلٹ پیپرز کی گنتی پر بھی عدالت فیصلہ کرے گی۔ سروے کے مطابق 65 فیصد امریکی ان ووٹوں کو شامل کرنے کے حق میں نظر آتے ہیں۔
تقریباً 85 فیصد ڈیموکریٹس اور 51 فیصد ریپبلکنز کا ماننا ہے کہ الیکشن کے دن تک موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ سروے 4557 امریکی شہریوں کی رائے پر مبنی ہے۔