جنوبی لبنان کے سرحدی دیہات اس وقت ایک ایسی منظم اسرائیلی مہم کا نشانہ بن رہے ہیں جس کا مقصد محض عسکری اہداف کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پورے کے پورے علاقوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا ہے۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے اپنائی گئی یہ پالیسی غزہ میں کی جانے والی تباہی کی یاد تازہ کر رہی ہے، جہاں رہائشی محلوں اور بنیادی ڈھانچے کو اس طرح زمیں بوس کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں وہاں زندگی کی واپسی اور دوبارہ تعمیر ناممکن ہو جائے۔
یہ پالیسی’رہائشی جغرافیے کو خالی کرنا” کہلاتی ہے، تاکہ ایک طویل بفر زون یا خالی علاقہ قائم کیا جا سکے۔
بنت جبیل کی تاریخی شناخت پر حملہ
اسرائیل کی اس تباہ کن مہم کا سب سے بڑا نشانہ تاریخی شہر ’بنت جبیل‘ بنا ہے۔
الجزیرہ کی جانب سے 16 سے 24 اپریل کے درمیان حاصل کردہ سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیوز کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ صوبہ نبطیہ میں ہونے والی 93 فیصد تباہی کا مرکز یہی علاقہ ہے۔
بنت جبیل شہر میں دھماکوں اور بموں سے اڑا کر بستیوں کی بستیاں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں۔ اس منظم تباہی نے یہاں کے شہری ڈھانچے کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ اب اسے پہچاننا مشکل ہو چکا ہے۔
כוחות חטיבת גולני השמידו במהלך הימים האחרונים יותר מ-50 תשתיות טרור:
— מה חדש. What's new❓ (@Gloz111) April 27, 2026
**צפו בפיצוץ האדיר - של עשרות מבני טרור**
סוד קטן-🤫חבר שלי חזר משם, הוא מספר שלי
שכל הרעיון של הפסקת האש, זה חרטא הם ממשיכים לפוצץ בתים בכמויות עוד ועוד. pic.twitter.com/xZuCUUnnSK
90 فیصد شہری علاقہ متاثر، تاریخی مساجد شہید
میئر بنت جبیل محمد بزی کے مطابق اپریل کے اواخر تک شہر کی تباہی کے اعداد و شمار انتہائی لرزہ خیز ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شہر کا 70 فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے جبکہ 20 فیصد کو جزوی نقصان پہنچا ہے، یعنی مجموعی طور پر 90 فیصد شہری علاقہ متاثر ہوا ہے۔
تقریباً 1500 سے زائد عمارتیں (جو 3000 رہائشی یونٹس پر مشتمل تھیں) ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو شہر کے قلب میں واقع 400 سالہ قدیم جامع کبیر (بڑی مسجد) کی شہادت اور تاریخی تجارتی مرکز کی تباہی ہیے، جسے شہر کی پہچان اور ثقافتی ورثے پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
מפקד אוגדה 98 תאל גיא לוי מפרסם את תמונת המגרש בבינת ג׳בייל בו נשא נאסראללה את נאום קורי העכביש ב2000:״היה כאן מישהו שנאם והתרברב על קורים ועכבישים. היום, האיש הזה לא קיים, גם המגרש לא, והמילים שלו לא שוות כלום.
— Or Heller אור הלר (@OrHeller) April 13, 2026
*בינת-ג'בל 2026: כוחותנו שולטים במרחב, משמידים תשתיות טרור ומחבלים״ pic.twitter.com/cDqBJVoXbN
بنیادی سہولیات کا فقدان اور انسانی بحران
اسرائیلی حملوں نے یہاں صرف عمارتوں ہی کو نہیں بلکہ زندگی کے تمام عناصر کو نشانہ بنایا ہے۔
شہر کے مشرق و مغرب میں بجلی کے گرڈ اسٹیشن، پانی کی فراہمی کا نظام، اسکول اور اسپتال، بشمول صلاح غندور اسپتال تباہ کر دیے گئے ہیں۔
زرعی زمینوں پر فاسفورس بموں کے استعمال سے مٹی کو کاشت کاری کے لیے ناقابل استعمال بنا دیا گیا ہے، تاکہ لوگ دوبارہ زراعت نہ کر سکیں۔
ایسے حالات میں 2 ہزار سے زائد خاندان بے گھر ہو کر محفوظ مقامات کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے۔
بنت جبیل کی اہمیت اور اسرائیلی عزائم
اسرائیل کے لیے بنت جبیل اور اس کے قریب واقع ’مارون الراس‘ کی پہاڑیاں تزویراتی طور پر انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ علاقے سرحدی اسرائیلی بستیوں جیسے افیفیم اور مالکیہ پر مکمل نظر رکھتے ہیں۔
اسرائیلی قیادت کا کہنا ہے کہ ان بلندیوں پر کنٹرول حاصل کر کے وہ نہ صرف حزب اللہ کی فورس کو روک سکتے ہیں بلکہ لبنان کے اندر تک اپنے توپ خانوں سے کارروائیاں بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ وہ اس علاقے کو ایک ’سیکیورٹی بیلٹ‘ میں تبدیل کرنے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
الجيش الإسرائيلي يُشعل النيران في منازل الأهالي بقرى جنوب لبنان. pic.twitter.com/GuiuDFjPPQ
— Tamer | تامر (@tamerqdh) April 20, 2026
حزب اللہ کا ردِعمل اور مزاحمت کا عزم
دوسری جانب حزب اللہ نے عبرانی اور عربی زبانوں میں جاری کردہ پیغامات میں اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ ملبے کے ڈھیر پر سیکیورٹی بیلٹ قائم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ان کا میزائل اور ڈرون نیٹ ورک کسی بھی ہدف تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ بیان کے مطابق اسرائیلی بستیوں کو محفوظ نہیں رہنے دیا جائے گا۔
تنظیم نے اسرائیلی آباد کاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت انہیں دھوکہ دے رہی ہے ۔ جب تک لبنان کی سرزمین پر جارحیت رہے گی، سرحد پار امن ناممکن ہوگا۔