تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ کئی عظیم فنکاروں اور ادیبوں نے غربت و افلاس کے باعث اپنے شاہکار انتہائی معمولی قیمت پر فروخت کیے ہیں۔
مزید پڑھیں
اس فہرست میں ڈچ مصور ونسنٹ وان گوگ کا نام سرِفہرست ہے، جن کے فن پارے آج کروڑوں ڈالرز میں بکتے ہیں مگر انہوں نے اپنی زندگی انتہائی کسمپرسی میں گزاری۔
اسی فہرست میں انگلستان کے عظیم شاعر و سیاستدان جان ملٹن کا نام بھی شامل ہے، جنہیں انگریزی ادب کا ایک مضبوط ستون مانا جاتا ہے۔
ملٹن نے اپنی زندگی کی سب سے اہم اور عالمی سطح پر مشہور رزمیہ
نظم مالی تنگی کی وجہ سے انتہائی معمولی رقم کے عوض فروخت کر دی تھی۔
جان ملٹن 9 دسمبر 1608 کو پیدا ہوئے۔ اس دور کے دیگر افراد کے مقابلے میں انہوں نے بہترین تعلیم حاصل کی۔
انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی کے کرائسٹ کالج سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی، جو ان کی علمی قابلیت اور ادبی ذوق کی بنیاد بنی۔
انگلستان میں 1642 کی خانہ جنگی اور 1649 میں شاہ چارلس اول کی سزائے موت کے دوران ملٹن نے ریپبلکن نظریات کی حمایت کی۔
اولیور کروم ویل کے دور میں وہ اپنی لسانی مہارت کی بدولت غیر ملکی زبانوں کے سیکرٹری کے اہم عہدے پر فائز رہے۔
جان ملٹن انگریزی کے علاوہ فرانسیسی، یونانی، ڈچ، عبرانی، لاطینی اور ہسپانوی زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے، تاہم مسلسل محنت، کام کے دباؤ اور ذہنی تناؤ کے باعث ان کی بینائی متاثر ہونے لگی اور 1652 تک وہ مکمل طور پر نابینا ہو گئے۔
بینائی ختم ہونے کے بعد ملٹن نے ہمت نہ ہاری اور اپنے معاونین کی مدد سے ادبی تخلیقات کا سلسلہ جاری رکھا۔
وہ اشعار بولتے جاتے اور ان کے مددگار انہیں کاغذ پر منتقل کرتے، اسی طرح انہوں نے اپنے دور کے عظیم ادبی شاہکار تخلیق کیے۔
برطانیہ میں 1660 میں جب دوبارہ بادشاہت قائم ہوئی تو ریپبلکنز کی حمایت کرنے پر ملٹن کو گرفتار کر لیا گیا۔
وہ کئی ماہ جیل میں رہے اور بااثر افراد کی مداخلت پر رہا ہوئے، تاہم انہیں بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا اور ان کی سیاسی کتابیں جلا دی گئیں۔
جان ملٹن نے اپنی زندگی میں ’ایریوپیگیٹیکا‘ اور ’لیسیڈاس‘ جیسی کئی اہم کتابیں لکھیں، مگر 1667 میں لکھی گئی ان کی طویل نظم ’پیراڈائز لوسٹ‘ (جنت گم ہو گئی) ان کی پہچان بنی۔ یہ نظم آج بھی دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کے نصاب کا لازمی حصہ ہے۔
اس عظیم نظم میں حضرت آدم، بی بی حوا اور شیطان کا قصہ بیان کیا گیا ہے، جس میں انسان کی جنت سے بے دخلی کا ذکر ہے۔ ملٹن نے اس میں شیطان کو ایک باغی کے طور پر پیش کیا، جس پر اس دور کے مذہبی حلقوں میں کافی بحث ہوئی۔
شدید مالی مشکلات کے باعث جان ملٹن نے اس عظیم شاہکار کے اشاعتی حقوق پبلشر سیموئیل سیمنز کو محض 10 پاؤنڈز میں فروخت کر دیے تھے۔
معاہدے کے تحت کچھ مزید رقم کتاب کی فروخت کے بعد ملنی تھی، مگر یہ رقم ان کی محنت کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی۔
اگرچہ ’پیراڈائز لوسٹ‘ انگریزی ادب کا ایک کلاسک اور لازمی حوالہ بن گئی، مگر اس کے خالق کو اس سے کوئی خاص مالی فائدہ نہیں ہوا۔
جان ملٹن 1674 میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو وہ قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔