توانائی کی جنگ میں بڑا الٹ پھیر، گرین پاور نے قیمتوں کو بچا لیا!
اٹلی، جہاں 40 فیصد سے زیادہ بجلی گیس سے پیدا ہوتی ہے، میں جنگ کے آغاز سے تھوک قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
جرمنی میں، جو گیس کی کمی کا شکار ہے، یہ اضافہ 15 فیصد سے زیادہ رہا۔
اس کے مقابلے میں فرانس، جہاں 70 فیصد بجلی نیوکلیئر توانائی سے پیدا ہوتی ہے، میں قیمتوں میں اضافہ اٹلی کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہا۔
اسپین، جہاں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے، وہاں قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
اسی طرح البانیہ میں بھی مارچ کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسط قیمتیں کم رہیں، جس کی وجہ وافر پن بجلی ہے۔
گیس پر انحصار کرنے والے ممالک جیسے اٹلی، جرمنی اور یونان میں شمسی توانائی کا بھی کچھ حصہ ہے تاہم اس پر زیادہ انحصار Duck Curve نامی مسئلے کو جنم دیتا ہے، جس میں دوپہر کے وقت قیمتیں کم جبکہ صبح اور شام کے اوقات میں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔
کیپلر کے توانائی تجزیہ کار الیساندرو آرمینیا کے مطابق اٹلی اور جرمنی جیسے ممالک کا ہدف یہ ہے کہ وہ قابلِ تجدید توانائی اور طویل مدتی ذخیرہ اندوزی کے بڑے نظام قائم کریں تاکہ گیس پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوئلہ پیدا کرنے والے ممالک جیسے پولینڈ اور سربیا بھی اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں۔
یونان میں، جہاں شمسی توانائی کی بڑی صلاحیت موجود ہے، بجلی کے نظام کو چلانے والی کمپنی ایران جنگ کے باعث کوئلے سے چلنے والے ایک پاور پلانٹ کو مزید ایک سال تک کھلا رکھنے پر غور کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں جھٹکے عام صارفین تک نسبتاً کم شدت سے پہنچیں گے کیونکہ تھوک قیمتوں میں اضافہ صارفین تک منتقل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
یورپی کمیشن نے جنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے بجلی پر ٹیکس کم کرنے کے منصوبے بھی پیش کیے ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے ریاستوں پر مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔