اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

یورپ میں توانائی کا بحران: گرین انرجی کا رجحان بڑھ گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جو ممالک گیس پر انحصار کرتے تھے وہ سب سے زیادہ متاثر

یورپ کے مختلف ممالک میں قیمتوں کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ممالک جہاں بجلی کی پیداوار میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ زیادہ ہے، انہیں 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کے بعد قیمتوں میں تیز اضافے سے نسبتاً بہتر تحفظ حاصل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ان ممالک میں گھریلو صارفین، کاروبار اور معاشی نمو کو سہارا دے سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب آنے والے مہینوں میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات بتدریج عام صارفین تک پہنچیں گے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق البانیہ اس کی واضح مثال ہے، جہاں ایران جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہونے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود، ملک کو دریا سے بڑا سہارا ملا ہوا ہے۔

 سردیوں کی بارشوں اور برف کے پگھلنے کے باعث اور کمیونسٹ دور میں تعمیر کیے گئے پن بجلی کے ڈیمز کی بدولت، یہ دریا البانیہ کی

 90 فیصد سے زائد بجلی پیدا کرتا ہے، جس سے تھوک قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ رجحان یورپ میں صاف اور ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔

aerial view of the tulips field with wind turbines 2026 03 27 01 25 58 utc
قابلِ تجدید ممالک محفوظ، باقی شدید دباؤ میں

اس کے برعکس وہ ممالک جو تیل اور گیس پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، شدید قیمتوں کے اضافے کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے مہنگائی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور عالمی معیشت میں کساد بازاری کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے توانائی یورپی عوام کے لیے ایک مستقل تشویش کا باعث بن چکی ہے۔

 

ریستاد انرجی کے تجزیہ کار ساتیام سنگھ کے مطابق، یہ بحران پورے خطے میں قیمتوں کی کم از کم سطح کو بڑھا رہا ہے مگر وہ ممالک زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جو کم لچکدار ہیں اور درآمدی ایندھن پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

توانائی کی جنگ میں بڑا الٹ پھیر، گرین پاور نے قیمتوں کو بچا لیا!

اٹلی، جہاں 40 فیصد سے زیادہ بجلی گیس سے پیدا ہوتی ہے، میں جنگ کے آغاز سے تھوک قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔
جرمنی میں، جو گیس کی کمی کا شکار ہے، یہ اضافہ 15 فیصد سے زیادہ رہا۔
اس کے مقابلے میں فرانس، جہاں 70 فیصد بجلی نیوکلیئر توانائی سے پیدا ہوتی ہے، میں قیمتوں میں اضافہ اٹلی کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہا۔
اسپین، جہاں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے، وہاں قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
اسی طرح البانیہ میں بھی مارچ کے دوران گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسط قیمتیں کم رہیں، جس کی وجہ وافر پن بجلی ہے۔

گیس پر انحصار کرنے والے ممالک جیسے اٹلی، جرمنی اور یونان میں شمسی توانائی کا بھی کچھ حصہ ہے تاہم اس پر زیادہ انحصار Duck Curve نامی مسئلے کو جنم دیتا ہے، جس میں دوپہر کے وقت قیمتیں کم جبکہ صبح اور شام کے اوقات میں تیزی سے بڑھ جاتی ہیں۔

people working for alternative energy farm wind 2026 03 24 00 35 10 utc
یورپ میں مہنگی بجلی کا بحران، قابلِ تجدید توانائی کی طرف رجحان

کیپلر کے توانائی تجزیہ کار الیساندرو آرمینیا کے مطابق اٹلی اور جرمنی جیسے ممالک کا ہدف یہ ہے کہ وہ قابلِ تجدید توانائی اور طویل مدتی ذخیرہ اندوزی کے بڑے نظام قائم کریں تاکہ گیس پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کوئلہ پیدا کرنے والے ممالک جیسے پولینڈ اور سربیا بھی اس بحران سے متاثر ہوئے ہیں۔ 

یونان میں، جہاں شمسی توانائی کی بڑی صلاحیت موجود ہے، بجلی کے نظام کو چلانے والی کمپنی ایران جنگ کے باعث کوئلے سے چلنے والے ایک پاور پلانٹ کو مزید ایک سال تک کھلا رکھنے پر غور کر رہی ہے۔

solar panels and wind turbines with mountains land 2026 03 26 06 22 01 utc
گیس ہاری، قابلِ تجدید جیت گئی

ماہرین کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں جھٹکے عام صارفین تک نسبتاً کم شدت سے پہنچیں گے کیونکہ تھوک قیمتوں میں اضافہ صارفین تک منتقل ہونے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

یورپی کمیشن نے جنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے بجلی پر ٹیکس کم کرنے کے منصوبے بھی پیش کیے ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے ریاستوں پر مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔