سلفر (گندھک) ایک ایسی شے ہے جو عام طور پر خبروں کی سرخیوں میں جگہ نہیں پاتی، لیکن ادویہ سازی سے لے کر زراعت اور کان کنی تک، یہ ہر صنعت کی بنیاد ہے۔
مزید پڑھیں
حالیہ ایران جنگ نے اس خاموش مگر اہم ترین شے کی اہمیت کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا ہے۔
سلفر درحقیقت توانائی کے شعبے (تیل اور گیس) کی ایک ذیلی پیداوار ہے اور جب اس سے سلفیورک ایسڈ تیار کیا جاتا ہے تو اسے کیمیکلز کا بادشاہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کھادوں، دھاتوں کی صفائی اور ادویات کے بڑے کارخانوں کو چلاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سلفر کی منڈی میں آنے والا کوئی بھی تعطل پوری عالمی معیشت میں لرزہ پیدا کر دیتا ہے۔
سپلائی چین شدید متاثر
مشرقِ وسطیٰ توانائی کے ساتھ ساتھ سلفر کی عالمی منڈی کا بھی مرکز ہے۔
ارگوس میڈیا کی ماہر مینا چوہان کے مطابق دنیا بھر میں سلفر کی برآمدات کا تقریباً نصف حصہ اسی خطے سے آتا ہے، جس کی بڑی منزلیں چین، انڈیا، انڈونیشیا اور امریکہ ہیں۔
تاہم ایران کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش نے ان سپلائی لائنوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس خطے سے ہونے والی سپلائی کی کمی کو دنیا کا کوئی دوسرا خطہ مل کر بھی پورا نہیں کر سکتا۔
قبل از جنگ حالات اور قیمتوں کا دباؤ
فروری میں ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی سلفر کی مارکیٹ دباؤ کا شکار تھی۔
ووڈ میکنزی کے تجزیہ کار جیمز ولوبا کے مطابق روس یوکرین جنگ اور انڈونیشیا میں نکل (Nickel) کی صنعت کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے قیمتیں پہلے ہی 4 سال کی بلند ترین سطح پر تھیں۔
ایران جنگ نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ جب توانائی کی پیداوار متاثر ہوئی تو سلفر کی قیمتوں نے بھی آسمان کو چھونا شروع کر دیا، جو دونوں شعبوں کے گہرے تعلق کا واضح ثبوت ہے۔
حفاظتی پالیسی اور برآمدات پر پابندیاں
اس معاشی جھٹکے سے بچنے کے لیے مختلف ممالک نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں:
- ترکیہ نے گزشتہ ہفتے سلفر کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
- انڈیا اپنی مقامی صنعت کو بچانے کے لیے برآمدی پابندیوں پر غور کر رہا ہے۔
- چین مئی سے سلفیورک ایسڈ کی برآمد روکنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ چین سلفر کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی 16 فیصد پیداوار بھی خود کرتا ہے، مگر اس کا بڑا حصہ وہ خود استعمال کرتا ہے۔
- اس کے علاوہ، چین سلفیورک ایسڈ کی عالمی تجارت کا 20 فیصد حصہ کنٹرول کرتا ہے، جس کی بندش سے چلی (تانبے کی صنعت) اور مراکش و سعودی عرب (فاسفیٹ کھاد) شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
زرعی اور صنعتی شعبوں پر اثرات
سلفر کا بحران براہِ راست عالمی غذائی تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔
چونکہ سلفیورک ایسڈ فاسفیٹ کھاد کی تیاری میں بنیادی جزو ہے، اس لیے اس کی قلت سے کھادوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس کا بوجھ کسانوں اور بالآخر صارفین پر پڑے گا۔
دوسری طرف کان کنی کا شعبہ بھی شدید خطرے میں ہے۔ انڈونیشیا کے نکل پیدا کرنے والے ادارے، جو اپنا زیادہ تر سلفر مشرقِ وسطیٰ سے لیتے ہیں، اب پیداوار کم کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ایوانہو مائنز کے بانی رابرٹ فریڈ لینڈ کے مطابق افریقہ اپنی سلفر کی ضرورت کا 90 فیصد مشرقِ وسطیٰ سے پورا کرتا ہے۔ اگر یہ تعطل 3 ہفتوں سے زائد رہا تو تانبے کی پیداوار کے کئی پلانٹس بند ہو جائیں گے۔
مستقبل کا منظرنامہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ سلفر ایک ایسی شے ہے جس کا فوری متبادل موجود نہیں ہے۔
کولوراڈو اسکول آف مائنز کی ماہر سانگیتا گیاتری کانن کا کہنا ہے کہ اب مسئلہ صرف قیمت کا نہیں بلکہ دستیابی کا ہے۔ اگر مال مارکیٹ میں دستیاب ہی نہ ہو تو کوئی بھی قیمت اسے حاصل نہیں کر سکتی۔
اگر ایران جنگ طویل ہوتی ہے تو عالمی سطح پر کمپنیوں کے پاس اپنی پیداوار مکمل بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔