اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

رضا پہلوی کا یورپ اور میڈیا پر بڑا الزام: ’خاموشی بھی جرم ہے‘

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
رضا پہلوی یورپ تنقید
ویڈیو پیغام کو 6.9 ملین سے زائد ویوز حاصل ہوئے (فوٹو: العربیہ)

ایران کے سابق شاہی نظام میں ولی عہد رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سخت اور تنقیدی پوسٹ شیئر کی ہے جس میں انہوں نے یورپ اور اس کے میڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خاموشی اور دانستہ نظر اندازی کے ذریعے ایرانی حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں اور اس کے عوام کے خلاف جرائم اور قتلِ عام کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

پہلوی نے اپنی پوسٹ کے ساتھ تقریباً ساڑھے 4 منٹ کی ویڈیو میں کہا:
’چاہے یورپ ہمارے ساتھ کھڑا ہو یا نہ ہو، چاہے آپ کے صحافی اپنا فرض ادا کریں یا نہ کریں، اور چاہے آپ کے سیاستدان عمل کرنے کی ہمت دکھائیں یا نہ دکھائیں، میں اپنے عوام اور اپنے ملک کے لیے جد و جہد جاری رکھوں گا‘۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے حال ہی میں ایک یورپی دورہ مکمل کیا، جس کے دوران انہوں نے مختلف پارلیمنٹیرینز، حکومتوں اور میڈیا نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، تاکہ اسلامی جمہوریہ کے تحت یرغمال بنائے گئے لاکھوں ایرانیوں کی آواز دنیا تک پہنچائی جا سکے اور ان مظالم کو اجاگر کیا جا سکے جن میں دہشت گردانہ کارروائیاں اور انٹرنیٹ کی بندش شامل ہیں۔

انہوں نے یورپی میڈیا پر براہِ راست الزام لگایا کہ وہ اسی ’خاموشی اور سنسرشپ‘ کا حصہ بن چکا ہے جو ایرانی حکومت خود نافذ کرتی ہے۔ 

ان کے مطابق، اسٹاک ہوم اور برلن میں منعقدہ دو پریس کانفرنسوں میں 150 سے زائد یورپی صحافی شریک ہوئے، جنہوں نے دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک ان کی گفتگو سنی، مگر کسی نے بھی درج ذیل اہم معاملات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا:

  • سڑکوں پر 40 ہزار ایرانیوں کے قتلِ عام
  • گزشتہ دو ہفتوں میں 19 سیاسی قیدیوں کو پھانسی
  • متاثرہ خاندانوں، خصوصاً والدین کی کہانیاں

انہوں نے یورپی پالیسیوں کو ’مصالحت پسند‘ قرار دیا

پہلوی نے کہا کہ ان صحافیوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور اخلاقی غیرجانبداری دونوں کو ترک کر دیا ہے، اور وہ ایرانی حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے زیادہ تر امریکہ اور اسرائیل پر تنقید میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے یورپی عوام سے براہِ راست مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اپنے ملک کی بازیابی کے لیے یورپ، اس کے صحافیوں یا سیاستدانوں کی منظوری کا انتظار نہیں کریں گے۔ انہوں نے اپنی ویڈیو کا اختتام اس نعرے پر کیا ’ہم ایران کو واپس حاصل کریں گے‘۔

یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر غیرمعمولی طور پر مقبول ہوئی، جسے 6.9 ملین سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔ 

یاد رہے کہ رضا پہلوی 1979 سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں ایرانی اپوزیشن کے نمایاں رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

وہ ایک جمہوری اور سیکولر نظام کے قیام کے حامی ہیں جو عوام کی حقیقی نمائندگی کرے۔

مبصرین کے مطابق یہ بیان یورپی پالیسیوں کے خلاف پہلوی کے مؤقف میں ایک واضح شدت کو ظاہر کرتا ہے، جسے بہت سے ایرانی مخالفین ’مصالحت پسند‘ اور ’عملاً تہران حکومت کی حمایت‘ قرار دیتے ہیں، خاص طور پر خاموشی اور نظراندازی کے ذریعے۔