پاکستانی ذرائع نے العربیہ ٹی وی چینل کو بتایا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اُن نکات پر بات چیت کے لیے گرین سگنل دے دیا گیا ہے جنہیں پاکستان مذاکرات میں شامل کرنا چاہتا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق عراقچی سلطنتِ عمان کے دورے کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ممکنہ امریکی وفد کی آمد تک قیام کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایران کی جانب سے امریکی وفد سے ممکنہ ملاقات پر رضامندی کا بھی انتظار کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم ایک پاکستانی ذریعے نے واضح کیا کہ جنگ بندی تاحال برقرار ہے اور امریکہ کی جانب سے اس حوالے سے کسی تبدیلی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی جبکہ اس وقت اسلام آباد میں کسی امریکی وفد کی آمد کا کوئی منصوبہ نہیں۔
ادھر سلطنتِ عمان میں سلطان ہيثم بن طارق نے عراقچی سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال، ثالثی کی کوششوں اور تنازعات کے
خاتمے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عمانی خبر رساں ادارے کے مطابق سلطان ہیثم نے مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کو ترجیح دینے پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عمانی قیادت کو ایران کے مؤقف سے آگاہ کیا اور مذاکراتی عمل میں عمان کے کردار کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی پر بھی گفتگو ہوئی۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے تو اسے براہِ راست امریکہ سے رابطہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ ایرانی تجاویز میں بہتری آئی ہے، تاہم تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یاد رہے کہ اپریل کے آغاز میں اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست مذاکراتی نشست ہوئی تھی لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔