معدنی وسائل کی مالیت 9.4 ٹریلین ریال تک پہنچ گئی
لاجسٹکس میں ترقی
لاجسٹکس کے شعبے میں فعال مراکز کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی جبکہ کسٹمز کے طریقہ کار میں نمایاں بہتری آئی۔
کسٹم کلیئرنس کا اوسط وقت 9 گھنٹے سے کم ہو کر 2 گھنٹے سے بھی نیچے آ گیا، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی اور سپلائی چین کے اخراجات میں کمی آئی۔
اسی طرح لائسنس یافتہ گودام علاقوں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 21 ہو گئی جو مملکت کو ایک علاقائی لاجسٹک مرکز بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
ڈیجیٹل میدان میں عالمی برتری
سعودی عرب نے ڈیجیٹل معیشت میں بھی اپنی عالمی پوزیشن مضبوط کی اور کئی بین الاقوامی اشاریوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جن میں شامل ہیں:
- مواصلات اور ٹیکنالوجی ترقی کا اشاریہ
- ڈیجیٹل تیاری کا اشاریہ
- سائبر سکیورٹی کا اشاریہ
یہ کامیابیاں ڈیجیٹل تبدیلی کی حکمت عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہیں، جس کے تحت ایک جدید اور لچکدار ٹیکنالوجی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔
یہ تمام اشاریے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وژن 2030 کے تحت اقتصادی تبدیلی صرف عددی ترقی تک محدود نہیں رہی بلکہ سعودی معیشت کے ڈھانچے کو ازسرِ نو تشکیل دے رہی ہے۔
کان کنی، صنعت، لاجسٹکس اور ڈیجیٹل شعبوں میں ترقی کے ذریعے مملکت ایک ابھرتی ہوئی عالمی اقتصادی، صنعتی اور تکنیکی طاقت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔