امریکی وزارت انصاف نے وفاقی سطح پر سزائے موت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ان سزاؤں پر عملدرآمد کے لیے اب صرف انجکشن ہی نہیں، بلکہ گولی مارنے، بجلی کے جھٹکے دینے اور زہریلی گیس کے استعمال جیسے طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
قائم مقام امریکی وزیر انصاف ٹوڈ بلانش نے اس حوالے سے کہا ہے کہ سابقہ انتظامیہ خطرناک مجرموں، بشمول دہشت گردوں اور قاتلوں کو سزا دینے میں ناکام رہی ہے۔
اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں محکمہ انصاف قانون کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔
ٹرمپ کا ریکارڈ اور وفاقی احکامات
اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران صدر ٹرمپ نے 17 سالہ غیر اعلانیہ تعطل کو ختم کر کے سزاؤں پر عمل شروع کروایا تھا۔
اپنے دوسرے دور کے پہلے ہی دن بھی انہوں نے سنگین ترین جرائم میں ملوث مجرموں کے خلاف سزائے موت کے استعمال کو بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
جو بائیڈن کا دور اور پالیسی میں تبدیلی
سابق صدر جو بائیڈن سزائے موت کے سخت مخالف تھے۔
انہوں نے جنوری 2025 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے قبل وفاقی قید خانوں میں موجود 40 میں سے 37 قیدیوں کی سزائے موت کو کم کر دیا تھا۔ یہ عمل ان کی انسانی حقوق کے حوالے سے پالیسی کا حصہ تھا۔
مختلف ریاستوں میں مروجہ طریقہ
امریکا میں سزائے موت عام طور پر ریاستی سطح پر دی جاتی ہے، تاہم وفاقی حکومت بھی مخصوص جرائم میں اس کا حق رکھتی ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق 5 ریاستیں فائرنگ اسکواڈ، جبکہ 9 ریاستیں الیکٹرک چیئر کے ذریعے سزائے موت دینے کی قانونی اجازت رکھتی ہیں۔
گیس کا متنازع استعمال اور عالمی ردعمل
2 ریاستوں نے حال ہی میں نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت دی ہے، جس میں قیدی کو ماسک کے ذریعے دم گھٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس طریقے کو انتہائی ظالمانہ، غیر انسانی اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔
موجودہ قانونی صورتحال اور تعطل
امریکا کی 50 میں سے 23 ریاستوں میں سزائے موت ختم ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ کیلیفورنیا، اوریگون اور پنسلوانیا سمیت 3 ریاستوں نے فی الحال ان سزاؤں پر عملدرآمد معطل کر رکھا ہے۔
اس حوالے سے قانونی مباحث بھی جاری ہیں کہ کون سے طریقے انسانی حقوق کے تقاضوں کے مطابق ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سزائے موت کے طریقہ کار میں یہ تبدیلی امریکی عدالتی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔
جہاں ایک طرف انتظامیہ انصاف کی فراہمی اور جرائم کی روک تھام کو جواز بنا رہی ہے، وہیں دوسری طرف انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں سزاؤں کے پرتشدد طریقوں پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کر رہی ہیں۔