اہم خبریں
5 May, 2026
--:--:--

متضاد بیانات: اسلام آباد میں براہِ راست بات چیت یا بالواسطہ سفارتکاری؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
امریکہ ایران مذاکرات
میں اعلان نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہم اس وقت ذمہ دار افراد سے بات کر رہے ہیں: ٹرمپ

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران پیدا ہونے والا ماحول اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں جبکہ دونوں جانب کے مذاکرات کار پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد پہنچ رہے ہیں جبکہ ایرانی وفد پہلے سے ہی موجود ہے تاہم براہِ راست مذاکرات کے حوالے سے دونوں طرف کے بیانات میں تضاد سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے جمعہ کی شام پاکستان پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد، ان کی حکومت نے واضح کیا کہ اس دورے کے دوران امریکی حکومتی نمائندوں کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔ 

وزارت خارجہ کے ترجمان إسماعيل بقائی نے ہفتہ کی علی الصبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے

 درمیان کسی ملاقات کا شیڈول نہیں ہے۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی حکام دونوں وفود کے درمیان پیغامات کی ترسیل کریں گے۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایرانی وفد پاکستان کو اپنی تشویشات اور نکات سے آگاہ کرے گا۔

645464
تیل کی قیمتیں اُڑان پر: ہرمز بحران نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا

اس کے برعکس، وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے جمعہ کی شام فوکس نیوز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ امریکی خصوصی ایلچی ويٹكوف اور جاريد كوشنر جو آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، وہ عراقچی سے براہِ راست ملاقات کریں گے اور آمنے سامنے مذاکرات کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ متوقع ملاقات ایران کی درخواست پر طے ہوئی ہے۔ 

ترجمان کے مطابق واشنگٹن نے گزشتہ چند دنوں میں ایرانی موقف میں کچھ پیش رفت دیکھی ہے اور اسے امید ہے کہ ہفتے کے آغاز میں ہونے والے مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوگی۔

ایران نے مذاکرات کی تردید کی ہے جبکہ واشنگٹن آمنے سامنے ملاقات کی تصدیق کر رہا ہے

اسی طرح انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جنہوں نے مذاکرات کے پہلے دور میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی، نمایاں پیش رفت کی صورت میں پاکستان آنے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب، امریکی صدر دونالد ترامب نے اعلان کیا کہ ایران ایک ایسی پیشکش دینے کا ارادہ رکھتا ہے جو واشنگٹن کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہو گی تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی اس پیشکش کی تفصیلات معلوم نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کس کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ میں اس کا اعلان نہیں کرنا چاہتا لیکن ہم اس وقت ذمہ دار افراد سے بات کر رہے ہیں۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایرانی وزیر خارجہ جمعہ کی شام اسلام آباد پہنچے، جیسا کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تاہم اس میں امریکی وفد سے براہِ راست مذاکرات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا، جس سے مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد پر سوالات اٹھ گئے تھے، جس کی تیاری پاکستان رواں ہفتے کے آغاز سے کر رہا تھا۔

465654564
فوٹو: ایکس

ایران نے 13 اپریل کو اپنی بندرگاہوں پر عائد کئے گئے امریکی بحری محاصرے کے خاتمے کو لازمی شرط قرار دیا ہے، اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھتے ہوئے، جو اسی ماہ 8 اپریل کی صبح نافذ ہوئی تھی۔

جبکہ امریکی انتظامیہ نے اس محاصرے کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے اور اسے اپنے مطالبات کے مطابق کسی معاہدے سے مشروط کر دیا ہے، ساتھ ہی خطے میں ایک تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی تعینات کر دیا ہے۔