امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے سینئر مشیروں اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق ایران امریکا مذاکرات کے لیے وٹکوف اور کشنر پاکستان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔
اُدھر امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر گزشتہ کئی ماہ سے ایرانی حکام کے ساتھ پس پردہ رابطوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
اِن دونوں کی اسلام آباد آمد کو سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا
رہی ہے، تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ امریکی نائب صدر فی الوقت پردے سے غائب ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے بھی اسلام آباد کے سفر کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم ان کی روانگی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے مشروط ہے۔
بتایا گیا ہے کہ فی الحال اُن کا دورہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی عدم موجودگی کی وجہ سے ملتوی ہے۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل 11 اپریل کو اسلام آباد میں جے ڈی وینس اور محمد باقر قالیباف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔
مذاکرات کے پہلے دور میں دونوں ممالک نے طویل مدتی تصفیے پر اتفاق نہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اختلافات برقرار رہنے کا اعتراف کیا تھا۔
دریں اثنا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے دورہ پاکستان، عمان اور روس کو علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ پڑوسی ممالک ان کی ترجیح ہیں اور وہ دوطرفہ امور پر مشاورت کے لیے پُرامید ہیں۔
ذرائع کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔
عباس عراقچی کی جانب سے رابطوں کی بحالی کو اسلام آباد میں ایک مثبت اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے تناؤ میں کمی کی اُمید پیدا ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان گزشتہ کئی روز سے دونوں وفود کی میزبانی کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔
اگرچہ ایران کے آخری لمحات میں پیچھے ہٹنے سے جے ڈی وینس کا دورہ معطل ہو گیا تھا، لیکن پاکستانی حکام مسلسل دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان دھمکیوں کے تبادلے سے صورتحال کافی کشیدہ ہو گئی تھی۔
تاہم پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اب دوبارہ مذاکرات کا عمل شروع ہونے کی توقع ہے، جو خطے کے امن کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔