ترکیہ کی پارلیمنٹ نے ایک اہم قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق اس نئے قانون کا بنیادی مقصد انہیں ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
اس نئے قانون کے دائرہ کار میں نہ صرف روایتی سوشل میڈیا ویب سائٹس شامل ہیں بلکہ گیمنگ سافٹ ویئر کمپنیوں اور پلیٹ فارمز کو بھی اس ریگولیشن کے تحت لایا گیا ہے۔
بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا یہ اقدام کم عمری میں آن
لائن سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس قانون سازی کے ذریعے سوشل سروسز ایکٹ سمیت متعدد دیگر متعلقہ قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔
پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اب ان قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ بچوں کا تحفظ ہو سکے۔
منظور شدہ قانون کے تحت تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ صارفین کی عمر کی تصدیق کا موثر نظام وضع کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کی رسائی روکنے کے لیے ایج ویریفیکیشن اب ایک قانونی ضرورت بن چکی ہے۔
اسی طرح گیمنگ پلیٹ فارمز کے حوالے سے قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام گیمز کو صارفین کی عمر کے لحاظ سے مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کریں گے۔
اس درجہ بندی کا مقصد یہ ہے کہ بچے صرف اپنی عمر کے مطابق مواد تک رسائی حاصل کر سکیں۔
بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق نئے قانون کے تحت سماجی رابطوں کے ایسے تمام پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل کمپنیوں کے لیے ترکیہ میں اپنا مقامی نمائندہ مقرر کرنا لازمی ہوگا جن کے صارفین کی تعداد زیادہ ہے۔
سوشل میڈیا کمپنیوں کا یہ نمائندہ حکام کے ساتھ رابطے اور قانونی معاملات کی انجام دہی کا ذمہ دار ہوگا۔
واضح رہے کہ ترکیہ کی جانب سے یہ سخت قانون سازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر بچوں میں سوشل میڈیا کی لت اور اس کے منفی اثرات پر بحث جاری ہے۔
اس قانون کے ذریعے ڈیجیٹل ماحول کو بچوں کے لیے محفوظ بنایا جائے گا۔